جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا دھرنا جمعرات کے روز بھی جاری رہا ٗ کارکنان نے اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگائے اور اسپتالوں میں تالا بندی کا اعلان کردیا
حکومت ہمارے جائز مطالبات کو پورا کرنے کیلئے حیلے بہانے تلاش کررہی ہے سلیمان میمن ٗنیاز احمد خاصخیلی ٗ اسلام الدین شیخ ٗ شریف پالاری ودیگر کا شرکاء سے خطاب
کراچی ( اسٹاف رپورٹر) محکمہ صحت سندھ کے سرکاری اسپتالوں کے نیم طبی عملے کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا مرکزی احتجاجی دھرنا جمعرات کو دوسرے روز بھی جاری رہا جس میںسندھ بھر کے ہزاروں کارکنوں نے اپنے مطالبات کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے۔ علاوہ ازیں حکومت سندھ اور دھرنا قائدین کے مابین چیف سیکریٹری سندھ کے دفتر میں ہونیوالے مذاکرات کے بعد باہمی افہام و تفہیم نہ ہونے پر دھرنے کے قائدین نے پریس کلب پر آکر مذاکرات کی ناکامی کے ساتھ ہی آج جمعہ سے سندھ بھر کے تمام سرکاری اسپتالوں میں مکمل تالا بندی کا اعلان کردیا۔ یہ اعلان سلیمان میمن اور اسلام الدین شاہ اور شریف پالاری کی جانب سے کیا گیا۔ اس موقع پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنماؤں سلیمان میمن، اسلام الدین شاہ، نیاز احمد خاصخیلی ، شریف پالاری ، خادم مستوئی، مٹھل پنجارو نے دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہمارے جائز مطالبات کو پورا کرنے کیلئے حیلے بہانوں سے کام نہ لے ۔ 30فیصد ہیلتھ الاؤنس ، ریکوری لیٹر کی معطلی اور سروس اسٹرکچر کی منظوری ہمارے وہ جائز بنیادی مطالبات ہیں جس کیلئے حکومتی جماعت سمیت سندھ اسمبلی کے ارکان کی اکثریت بھی ہمارے مطالبات سے اتفاق کرتی ہے ۔ دریں اثناء نیاز احمد خاصخیلی کا کہنا ہے کہ سردی کے اس سخت موسم میں صوبہ بھر کے تمام اضلاع کے ہزاروں کارکن کراچی پریس کلب کے سامنے تفریح کرنے نہیں اپنا بنیادی جمہوری حق لینے آئے ہیں اور یہ احتجاجی دھرنا مطالبات کی منظوری کے نوٹیفکیشن تک جاری رہے گا۔ کراچی پریس کلب پر جاری احتجاجی دھرنے میںاخلاق احمد خان، طارق حسین منگی ،سید منیر شاہ، جاوید اختر شیخ،فرمان علی سولنگی، عاشق حسین، عباس مہر، فیضان حسین، انتھونی گل، احسان کلہوڑو، ممتاز میمن ودیگر بھی شریک تھے اور وقفے وقفے سے پیرامیڈیکس کے حوصلے بڑھاتے رہے۔

