حکومت نے مذکورہ افسران سے پروگرام میں اپنی بیگمات کو انرول کروانے پرجواب طلب کرلیا‘ شوکاز نوٹس ، 10 روز کی مہلت دیدی
افسران بیگمات کے نام پرمستحق لوگوں کا پیسا وصول کرتے رہے‘اگر کسی افسر نے تسلی بخش جواب نہ دیا توملازمتوں سے فارغ کردیا جائیگا
بی آئی ایس پی میں کرپشن کی تحقیقات کیلئے چیئرمین نیب کرپٹ افراد کی نشاندہی کیلئے انکوائری کا حکم دیں‘ وفاقی حکومت نے خط لکھ دیا
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے فائدہ اٹھانے والے سرکاری افسران کے سر پر نوکری سے برطرفی کی تلوار لٹکنے لگی ۔وفاقی حکومت نے بینظیرانکم سپورٹ پروگرام سے مستفید ہونے والے افسران کیخلاف سخت کاروائی کا فیصلہ کرلیا، افسران کو شوکاز نوٹس جاری کردئیے، تسلی بخش جواب نہ دینے پر ملازمتوں سے بر طرفی عمل میں لائی جائے گی۔مستحق لوگوں کا حق کھانے والے افسران کی ملازمتیں خطرے میں پڑ گئیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پیپلزپارٹی کے دورحکومت میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام غریب مستحق لوگوں کیلئے شروع کیا گیا تھا۔لیکن افسران نے غریبوں کے پیسے کو بھی نہ بخشا بلکہ اپنے عزیزواقارب اور بیگمات کے نام پر پیسے لے کر خوب کھاتے رہے۔ موجودہ حکومت نے گزشتہ ہفتے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی سکروٹنی کی۔ جس میں اڑھائی ہزار افسران اور ان کی بیگمات کو چھانٹی کیا گیا اور ان کے نام فوری پروگرام سے نکال دئیے گئے۔حکومت نے ان افسران کو شوکاز نوٹس دیتے ہوئے آئندہ دس روز میں جواب طلب کرلیا۔اگر کسی افسر نے تسلی بخش جواب نہ دیا تو ملازمت سے فارغ کردیا جائے گا۔ بعد ازاں پروگرام میں کرپشن کی تحقیقات کے لیے نیب سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے جوڈیشل ایکٹو ازم پینل نے چیئرمین نیب، ڈی جی، صدر مملکت عارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان کو خط لکھا۔خط میں کہا گیا ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں کرپشن منظرعام پر آچکی ہے، غریب اور مستحق لوگوں کی رقم کرپٹ اور منظور نظر افراد کو دی گئی۔خط میں مزید کہا گیا کہ نادرا کی حالیہ رپورٹ کے بعد معاملے میں ملوث افراد کی نشاندہی ضروری ہے اور استدعا کی گئی کہ چیئرمین نیب کرپٹ افراد کی نشاندہی کے لیے انکوائری کا حکم دیں۔رپورٹ کے مطابق گریڈ 17 سے 21 کے 2 ہزار 543 سرکاری افسران میں سے متعدد نے بیویوں کے نام پر پیسے وصول کیے، بلوچستان میں سب سے زیادہ سرکاری افسران پروگرام سے مستفید ہوئے۔سندھ میں گریڈ 18 کے 342 افسران نے پروگرام سے فائدہ اٹھایا جبکہ سندھ سے گریڈ 21 کے 3 افسران بھی شامل تھے۔

