لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اپنے بچت اہداف حاصل کرنے اور دیگر وجوہات کی بنا پر اپنے نیوز روم سے 450 ملازمین کو فارغ کرنے کا اعلان کردیا۔ ملازمین کی تعداد میں کمی کے اعلان سے ایک ہفتہ قبل ہی بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل ٹونی ہال نے اپنے عہدے سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا تھا جب کہ کارپوریشن کو یکساں معاوضے کے مطالبات اور مستقبل کے فنڈنگ ماڈلز کے حوالے سے مسائل کا سامنا ہے۔ ادارے کے ڈائریکٹر نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز فرین انس ورتھ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بی بی سی کو سامعین کی جانب بدلتے ہوئے انداز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ادارہ نشریات کے روایتی طریقوں پر بہت زیادہ اخراجات کررہا ہے اور ڈیجیٹل پر کیے جانے والے اخراجات ناکافی ہیں۔ ادارے کا ہدف 8 کروڑ پاؤنڈز (تقریباً 10 کروڑ 40 لاکھ ڈالر) کی بچت کرنا ہے۔ اس سلسلے میں صبح نشر ہونے والا ایک نیوز میگزین پروگرام ختم کیا جائے گا جب کہ ملازمتوں میں مزید کٹوتیاں فلیگ شپ سیاسی اور خبروں کے پروگرام کے ذریعے پروڈیوس کی جانے والی فلموں میں کمی کر کے کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ قومی ریڈیو اسٹیشن 5 لائیو میں بھی نوکریاں ختم کی جائیں گی جس کے لیے اس نشریاتی ادارے میں کام کرنے والوں کی تعداد پر نظر ثانی کی جائے گی۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مشاہدے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ٹیلی وژن نشریات کے روایتی ناظرین کی تعداد میں مسلسل کمی ہورہی ہے، خصوصاً 16 سے 34 سال کی عمر کے افراد میں یہ رجحان زیادہ ہے۔ ادارے کے جاری بیان کے مطابق بی بی سی کے نیوز روم کو دوبارہ منظم کیا جائے گا جس میں پروگرامز اور دیگر پلیٹ فارمز سے زیادہ خبروں پر توجہ دی جائے گی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ انتظام ہو بہو نقل سے بچنے کے لیے کیا جارہا ہے تا کہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ بی بی سی کی صحافت ناظرین کی مختلف اقسام کو مدنظر رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ اثر انداز ہو رہی ہے۔ جیسا کہ خبروں اور انٹرٹینمنٹ کے صارفین کی عادات میں تبدیلی آرہی ہے۔ دیگر میڈیا اداروں کی طرح دنیا کا سب سے بڑا نشریاتی ادارہ بی بی سی بھی ناظرین کی تعداد میں اضافہ کرنے کے نت نئے طریقوں سے نبرد آزما ہے۔ دوسری جانب کارپوریشن کو مساوی تنخواہ کے تنازع کا بھی سامنا ہے جس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ایک ہی شو کرنے والی خاتون میزبان کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جارہا ہے اور انہیں مرد میزبان جرمی وائن کو دی جانے والی تنخواہ کے مقابلے میں رقم کے چھٹے حصے کی ادائیگی کی جارہی ہے۔ ساتھ بی بی سی کو برطانیہ کی نئی حکومت کی جانب سے دباؤ کا بھی سامنا ہے جس کی جانب سے دورانِ الیکشن جانبدارانہ رپورٹنگ کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
بی بی سی کا 450 ملازم فارغ کرنے کا اعلان
القمر
