ساوتھ ایشین وائر کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں جنوری 2020میں مختلف آپریشنز میں 19کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا۔جن میں ایک 15 سالہ لڑکا تحسین نذیربھی شامل ہے جسے،جے کے پولیس کی بس نے کچل ڈالاتھا۔ بھارتی فوج ، پیراملٹری فورسز اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے آپریشنز میں مظاہرین پر فائرنگ ، پیلٹ گن اور آنسو گیس سے 11افراد زخمی ہوئے۔اسی مدت کے دوران بھارتی فورسز نے مبینہ طور پر کم از کم111افراد کو گرفتارکیا جن میں زیادہ ترنوجوان شامل ہیں۔ یہ گرفتاریاں مختلف علاقوں میں جاری کم و بیش106سرچ آپریشنز کے دوران کی گئیں۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق جنوری میں مقبوضہ کشمیر کے اضلاع سرینگر، کُپواڑہ ، ہِندوَاڑہ، رفیع آباد، پَٹَن، چاڈُورہ، کنگن ، تَرَال ، اَوَنتی پورہ ، بیج بِہاڑَہ، شوپِیاں، کُلگام ، رام بن، کِشتواڑ، ڈوڈہ میں سرچ آپریشنز کئے گئے۔آپریشنز میں بارودی مواد کے استعمال سے بھارتی فورسز نے چھ عمارتوں کو اڑ ادیا۔جن میں رہائشی مکان بھی تھے۔ اسی دوران آپریشنز اور برفانی تودے گرنے کے مختلف واقعات میں سولہ بھارتی سیکورٹی اہلکار ہلاک اورپندرہ زخمی ہوئے۔ان ہلاک شدگان میں آرمی پورٹرز بھی شامل ہیں۔ہلاک شدہ سیکورٹی اہلکاروں میں 2 اہلکاروں کو ان کے اپنے ہی ساتھی نے گولیوں کا نشانہ بنایا جبکہ دو اہلکاروں نے خودکشی کی۔جموں و کشمیر کے مختلف اضلاع میں برفانی تودے گرنے سے 18 شہری بھی ہلاک ہوئے۔
پولیس ذرائع کے مطابق شہید ہونے والوں میں حزب المجاہدین اور جیش محمد کے مقامی ارکان شامل ہیں۔راجوری کے علاقے میں ایک آپریشن میں فوج نے بارودی سرنگوں کو تباہ کر دیا۔مختلف آپریشنز میں مشتعل مظاہرین کی طرف سے سیکورٹی فورسز پر پتھراو کے دو واقعات پیش آئے۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق 2019 میں پتھراو کے 1996واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔
مقبوضہ کشمیر میں اس ماہ کے دوران کو جموں و کشمیر میں بی ایس ایف کمانڈنٹ کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کو ناکام بنا دیا گیا ۔مزید برآں مقبوضہ جموں وکشمیر پولیس نے 5 اگست کو نیم فوجی دستوں کے خوف سے فرار ہونے والے ایک 17 سالہ نوجوان کی موت کا اعتراف کیا ۔اس سے قبل عدالت میں جمع کرائے گئے ایک تحریری بیان میں ، پولیس نے 17 سالہ اوسیب الطاف کی شہادت سے متعلق تمام خبروں کی تردید کی تھی۔
مقبوضہ کشمیر میں جنوری 2020میں 19کشمیری شہید
القمر
