English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

فلسطین نے اسرائیل سے اوسلو معاہدہ منسوخ کردیا

القمر

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا کی جانب سے مشرق وسطیٰ کے لیے نام نہاد امن منصوبے کے اعلان کے بعد فلسطین سمیت کئی ممالک میں صدر ٹرمپ کی صہیونیت نوازی کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق فلسطین میں غرب اُردن اور غزہ سمیت کئی علاقوں میں امریکا اور اسرائیل کے خلاف ریلیاں نکالی گئیں، جن میں صہیونی ریاست کی توسیع پسندی، غرب اُردن پر قبضے کے صہیونی عزائم اور امریکا کی اعلان کردہ صدی کی ـڈیل کے خلاف نعرے لگائے گئے۔ دریں اثنا لبنان، اُردن، یمن، ترکی، انڈونیشیا اور ایران میں بھی امریکی منصوبے کے خلاف مظاہرے کیے گئے۔ اس دوران احتجاج کے شرکا نے امریکی اور اسرائیلی پرچم نذر آتش کیے۔ دوسری جانب فلسطینی انتظامیہ نے اسرائیل کے ساتھ اوسلو معاہدہ منسوخ کردیا۔ صدر محمود عباس نے کہا کہ امریکا کی جانب سے صہیونیت نواز منصوبہ اوسلو معاہدے کے منافی ہے، لہٰذا اب فلسطین اس سمجھوتے پر عمل سے آزاد ہے۔ اسرائیلی نیوز چینل کے مطابق فلسطین کے وزیر برائے سماجی امور حسین الشیخ کی سربراہی میں فلسطینی انتظامیہ کے ایک وفد نے صہیونی وزیر خزانہ موشے کہلون سے ملاقات کی اور صدر محمود عباس کا مراسلہ ان کے حوالے کیا، جس میں زور دیا گیا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کا اسرائیل فلسطین تنازع کا مجوزہ حل دراصل 1993ء کے اوسلو معاہدے کے منافی ہے، لہٰذا فلسطینی انتظامیہ اب خود کو اس سے آزاد سمجھتی ہے، جس میں سلامتی تعاون بھی شامل ہے۔ اُدھر انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ امریکی امن منصوبہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے ہاتھوں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا ایک نیا باب بن سکتا ہے اور اسرائیلی ریاست کی طرف سے فلسطینیوں کے خلاف وحشیانہ تشدد کے ظالمانہ ہتھکنڈوں میں بے پناہ اضافہ ہوسکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے