واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا نے ایران کی جوہری توانائی تنظیم اور اس کے سربراہ علی اکبر صالحی پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔ امریکی کے محکمہ خزانہ نے جمعرات کے روز اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں ایران کے جوہری ادارے اور اس کے سربراہ پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا۔ امریکا کے اس فیصلے سے ایران کے شہری مقاصد کے لیے جوہری پروگرام پر اثرات مرتب ہوں گے، کیوں کہ جوہری توانائی تنظیم ہی اس پروگرام کو چلانے کی ذمے دار ہے اور وہ جوہری تنصیبات کے لیے آلات اور دوسرا سامان خرید کرنے کی ذمے دار ہے۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مئی 2018ء میں جولائی 2015ء میں ایران کے ساتھ طے شدہ جوہری سمجھوتے سے دستبردار ہوگئے تھے۔ اس کے بعد سے ان کی انتظامیہ نے ایران کے خلاف سخت پابندیاں عائد کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اسی تناظر میں ایران کے لیے امریکا کے نمایندہ خصوصی برائن ہک نے کہا ہے کہ امریکی پابندیوں نے خطے میں ایران کے جنگی نظام کی مالی معاونت کو بڑی حد تک مشکل بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایرانی نظام کے سامنے ایک طاقت ور موقف رکھتے ہیں۔ ایک اخباری بیان میں ہک نے واضح کیا کہ ایٹمی توانائی کی ایرانی ایجنسی نے جوہری وعدوں کی خلاف ورزی میں اپنا کردار ادا کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی نظام کو درپیش ایرانی خطرے کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکی نمایندے نے باور کرایا کہ ایرانی نظام اپنے عوام کے وسائل اور دولت کا استیصال کر کے انہیں خطے میں تنازعات کا پیٹ بھرنے کے واسطے استعمال کر رہا ہے۔
ایرانی جوہری توانائی تنظیم اور سربراہ پربھی امریکی پابندیاں
القمر
