اسلام آباد(اے پی پی) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ گندم کے بعد چینی درآمد کرنے اور برآمد پر پابندی عاید کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے، ملوں کے لائسنس منسوخ، جرمانوں اور بعض افسران کو معطل کرنے سے عوام مطمئن نہیں ہونگے، فلور ملز مافیا نے عوام کو لوٹنا شروع کر دیا ہے، ملک میں پانی کی کمی کو دیکھتے ہوئے اگر گنے کی کاشت پر پابندی عاید کر دی جائے اور چینی درآمد کی
جائے تو عوام کو یہ کم قیمت میں ملے گی ، ملک دوبارہ کپاس کی درآمد پر ساڑھے 6 سو ارب روپے خرچ کرنے کے بجائے کپاس برآمد کرنے والا ملک بن جائے گا ۔ سب سے زیادہ برآمدات کرنے والی ٹیکسٹائل انڈسٹری بین الاقوامی مارکیٹ میں حریف ممالک سے مسابقت کی پوزیشن میں آجائے گی جبکہ کاروبار اور روزگار بھی بڑھے کا اور حکومت کو سرپلس چینی برآمد کرنے کے لیے شوگر ملز مالکان کو بھاری سبسڈی بھی نہیں دینا پڑے گی۔
گنے کی کاشت پر پابندی سے ملوں کی منا پلی ختم ہوجائے گی،مرتضیٰ مغل
القمر
