English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارت شہرت قانون پر پارلیمان میں شدید ہنگامہ

القمر

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈٰسک) بھارت میں اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے شہریت کے ترمیمی قانون کی مخالفت اور پُرتشدد واقعات کی مذمت پر زبردست ہنگامے کے بعد پارلیمان کے دونوں ایوانوں کی کارروائی ملتوی کردی گئی۔ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر کانگریس کے ادھیر رنجن چودھری نے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ اور شاہین با غ میں پُرامن مظاہرین ملک کے آئین کو بچانے نکلے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ بھارت کے آئین کو ہاتھ میں لے کر احتجاج کررہے ہیں، قومی ترانہ گارہے ہیں، لیکن ان پر گولیاں چلائی جارہی ہیں۔ بھارت کے لوگوں کو بے دردی سے مارا جارہا ہے۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے رہنما اسد الدین اویسی نے لوک سبھا میں کہا کہ ہم سب جامعہ کے بچوں کے ساتھ ہیں۔ یہ حکومت بچوں پرظلم کررہی ہے۔ یہ جانتے ہیں کہ ایک بچے کی آنکھ چلی گئی، بیٹیوں کو مار رہے ہیں، لیکن انہیں کوئی شرم نہیں آتی۔ لوک سبھا میں اپوزیشن کے ارکان اسمبلی اجلاس کے دوران نعرے لگاتے رہے کہ گولی مارنا بند کرو۔ دیش کو توڑنا بند کرو۔ شہریت ترمیمی ایکٹ کو روکو اور ہماری جمہوریت اور آئین بچاؤ۔ اپوزیشن نے مطالبہ کیا کہ شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف ملک بھر میں ہونے والوں مظاہروں پر جواب دینے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایوان میں موجود ہونا چاہیے۔ اس سے قبل بی جے پی رہنما اور نائب وزیر خزانہ انوراگ سنگھ ٹھاکر بجٹ کے متعلق جیسے ہی ایک سوال کا جواب دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو ان کے خلاف نعرے لگنے شروع ہو گئے کہ انوراگ ٹھاکر شرم کرو! شرم کرو! گولی مارنا بند کرو! دیش کو توڑنا بند کرو۔ انوراگ ٹھاکر نے 27جنوری کو دہلی میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کے دوران ملک کے غداروں کو گولی مارو کے نعرے لگوائے تھے، جس کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ اور شاہین باغ میں سی اے اے کے خلاف دھرنے پر بیٹھے مظاہرین پر فائرنگ کے کم از کم 3 واقعات پیش آچکے ہیں۔ بھارتی دانشوراور مولانا آزاد نیشنل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اختر الواسع کا کہنا ہے کہ یہ عجب ستم ظریفی ہے کہ آزادی کا نعرہ لگانے والوں کو غدار کہا جارہا ہے، جب کہ یہ آزادی بھارت سے یا بھارت کے آئین سے نہیں، بلکہ یہ آزادی بھوک، بے روزگاری، بیماری،نفرت، عناد اور فرقہ پرستی سے مانگی جارہی ہے۔ ان چیزوں سے آزادی مانگنا کس طرح غداری ہوسکتا ہے ؟ ان کا مزید کہنا تھا کہ سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ یہ زبان حکومت میں بیٹھے وہ لوگ استعمال کررہے ہیں جنہوں نے دستور پر ہاتھ رکھ کر امن و امان برقرار رکھنے کی قسم کھائی ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں دھرنے پر بیٹھے مظاہرین پر فائرنگ کا تازہ واقعہ اتوار کو رات گئے پیش آیا۔ جامعہ کے طلبہ نے بتایا کہ مظاہرے کے مقام سے چند قدم دور رات 12 بجے کے قریب اسکوٹر پر سوار 2 افراد ہوا میں گولی چلا کر فرار ہوگئے۔
نئی دہلی: بھارتی لوک سبھا میں متنازع شہریت قانون پر ہنگامہ ہورہا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے