بغداد (انٹرنیشنل ڈیسک) عراق میں محمد علاوی کی نئے وزیر اعظم کے طور پر نامزدگی کے خلاف بھی مظاہرے شروع ہوگئے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق بغداد، نجف اور ناصریہ سمیت کئی دیگر شہروں میں ہونے والے احتجاج میں طلبہ کی بڑی تعداد موجود تھی، جنہوں نے محمد علاوی کا نام مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ نئے نامزد کیے گئے شخص کا تعلق بھی گزشتہ ناکام سیاسی اسٹیبلشمنٹ سے ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ انہوں نے گزشتہ 16 برس میں ان لوگوں کی طرف سے صرف تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔ عرب ٹی وی کے مطابق محمد علاوی عراق کے نائب صدر اور وزیر اعظم رہنے والے ایاد علاوی کے قریبی عزیز ہیں جب کہ وہ سابق وزیر اعظم نور المالکی کی حکومت میں رکن پارلیمان بھی تھے۔ انہوں نے 2012ء میں اپنی وزارت میں وزیر اعظم کی مداخلت اور ملک میں ہونے والی بدعنوانی کو بنیاد بنا کر استعفا دے دیا تھا۔ اتوار کے روز بھی دارالحکومت کا تحریر اسکوائر احتجاجی مظاہرین سے بھرا ہوا تھا، جنہوں نے محمد علاوی کو نئے وزیر اعظم کے طور پر قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے دستبردار ہونے کے لیے چند روز کی مہلت دی تھی۔ واضح رہے کہ سابق عراقی وزیر اعظم نور المالکی کی حکومت کے خلاف گزشتہ برس اکتوبر میں ملک گیر مظاہرے شروع ہوئے تھے، جن میں ہزاروں افراد نے حکومت کی بدعنوانیوں اور ناکام پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا تھا، جو بعد ازاں سیکورٹی فورسز سے جھڑپوں کے باعث پُرتشدد شکل اختیار کرگیا تھا۔ حکومت مخالف احتجاجی لہر کے دوران سیکورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن میں تقریباً 500 مظاہرین ہلاک بھی ہوئے۔ دریں اثنا عراقی شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر نے مظاہرین سے کہا ہے کہ وہ دھرنا ختم کردیں اور کئی ماہ سے جاری احتجاج کے باعث بند ہونے والے اہم مقامات، مختلف علاقوں کی سڑکیں کھولنے اور صاف کرنے میں سیکورٹی فورسز اور مقامی انتظامیہ کی مدد کریں۔
عراق میں نامزد وزیراعظم کے خلاف بھی احتجاج زور پکڑگیا
القمر
