نیویارک (جسارت نیوز)انٹرنیشنل اسپورٹس فیڈریشن کے نمائندوں اور سفیروں نے اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں ایک اجلاس میں شرکت کی جس میں ایک ایسا پروگرام شروع کرنے پر غور کیا گیا جس کے تحت دنیا بھر میں ہونے والے کھیلوں کے بڑے ایونٹس کو دہشت گردانہ حملوں سے بچایا جائے گا۔ اجلاس میں بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (آئی او سی) ، مختلف اولمپک کمیٹیوں، بین الاقوامی فٹ بال ایسوسی ایشن، فیفا اور نجی کمپنیوںکے نمائندے شریک تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے انسداد دہشت گردی دفتر کے سربراہ ولادی میر ورونکوف نے کہا کہ کھیل لوگوں کو توانا رکھتے، رواداری اور صنفی مساوات کو فروغ دیتے ہیں جس سے معاشرے میں مسابقتی رجحانات کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھیلیں بنیادی انسانی اقدار میں سے ہیں جو نوجوانوں کو جرائم سے دور رکھنے والی موثر ویکسین ہیں، ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ہم کھیلوں کو تحفظ اور فروغ دیں۔ کھیلوں کے بڑے مقابلوں کے تحفظ میں کثیر الجہتی تعاون و ہم آہنگی ناگزیر ہے، لہٰذا مقامات کی حفاظت، سائبر سیکیورٹی، بحران سے نمٹنے کی منصوبہ بندی اور سٹریٹجک مواصلات کے حوالے سے مربوط سکیورٹی اور پالیسی انتظامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ پروگرام کے ذریعے ہم معلومات کے تبادلے، بہترین نظم ونسق، وسائل کی تقسیم اور شراکت کو آسان بنانے پر توجہ دیں گے۔ اقوام متحدہ کے الائنس آف سولائزیشن کے سربراہ میگوئل موراتینوس نے اس موقع پر کہا کہ ترقی اور امن کیلئے کھیلوں کا استحکام کو یقینی بنانا ہو گا کیونکہ یہی کھیل ہمیں متحد رکھتے اور صحت مند بناتے ہیں۔ ورلڈ کپ کی انتظامی کمیٹی کے سیکرٹری جنرل حسن التہاوادی نے ایک ویڈیو پیغام میں بتایا کہ قطر خطے میں کھیلوں کے پہلے میگا ایونٹ کی سکیورٹی یقینی بنانے کیلئے اقدامات اٹھا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دنیا بھر کے اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ بہترین مشق کا تبادلہ، انفارمیشن شیئرنگ، اہلکاروں کی شراکت داری اور 2022 سے پہلے اور اس کے دوران قطر کی سلامتی کو برقرار رکھنے کیلئے مل کر کام کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ مجوزہ پروگرام سپورٹس تنظیموں کے مابین بین الاقوامی تعاون کیلئے رہنما اصول تیار کرے گا اور معلومات کے تبادلے اور سرکاری و نجی شراکت داری کے فروغ میں آسانیاں لائے گا جبکہ نوجوانوں کو انتہا پسندی سے بچانے پر بھی توجہ مرکوز رکھی جائے گی۔ پروگرام لانچ کرنے کے بعد ماہرین کی دو روزہ میٹنگ ہوگی جبکہ نوجوانوں پر توجہ دینے والی ایک اور میٹنگ اپریل میں ہوگی۔ 2022ء کے فیفا ورلڈ کپ کے میزبان قطر کے علاوہ چین اور جنوبی کوریا بھی اس اقدام کے کلیدی حامی ہیں۔ قبل ازیں قطر اور اقوام متحدہ کے انسداد دہشت گردی دفتر نے پچھلے سال ایک معاہدے پر دستخط کئے تھے جس کے تحت دہشت گردی کے معاون انتہا پسندانہ طرز عمل سے نمٹنے کیلئے دنیا کا پہلا تحقیقاتی مرکز قائم کیا جائے گا۔
متحد قوت ہونے کے باوجود کھیل کے واقعات مہلک دہشت گردانہ حملوں کی زد میں آچکے ہیں۔ 1972 اور 1996 کے اولمپک گیمز اور حال ہی میں سری لنکا اور امریکہ میں میراتھن کچھ افسوسناک مثالیں ہیں۔ کھیلوں کے مقابلوں کو کھلاڑیوں اور عوام کیلئے محفوظ بنانے کیلئے عالمی پروگرام بین الاقوامی تعاون اور عوامی نجی شراکت داری کو بڑھانے کیلئے رہنما اصول تیار کرے گا۔
دنیا بھر کے کھیلوں کو دہشتگردی سے بچانے کیلئے بڑوں کا اجلاس
القمر
