

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام میں اسدی فوج نے صوبہ ادلب میں جاری لڑائی کے دوران پیش قدمی کرتے ہوئے اہم شہر قبضہ کر لیا ہے۔شامی مبصر برائے انسانی حقوق کے مطابق اسدی فوج نے 2011ء میں ہاتھ سے نکل جانے والے سراقب کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ اسدی فوج شہر میں داخل ہوگئی ہے اور اب سرچ آپریشن جاری ہے۔ شامی مبصر کے مطابق اسدی فوج کی سراقب شہر میں داخلے کے وقت کسی قسم کی جھڑپ نہیں ہوئی اور فوج آسانی کے ساتھ شہر میں داخل ہوگئی، تاہم شہر میں درجنوں جنگجو محصور ہیں۔ ان میں سے بعض جنگجو کھیتوں کے راستے نکلنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ جب کہ ترکی کے حمایت یافتہ مزاحمت کاروں نے الشہبا ڈیم پر گولہ باری کی۔ اس دوران سراقب کے گرد اور نیرب قصبے میں تُرک فوج نے اسدی فوج کو روکنے کے لیے گولہ باری کی۔ ساتھ ہی ترکی نے ادلب میں موجود اپنی فوجی چوکیوں پر کسی بھی قسم کے حملے کا بھرپور جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔ ساتھ ہی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے ادلب کی تازہ ترین صورت حال پر ترکی سے رابطہ کیا ہے۔ روسی ٹی وی چینل کے مطابق روسی اور ترک عسکری عہدے دار ادلب میں زمینی صورت حال کو قابو میں لانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ترکی کے صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے کہا ہے کہ شام کے موضوع پر آیندہ ماہ آستانہ مطابقت کے تحت اجلاس ہو سکتا ہے۔ ترجمان نے اس بات کا اظہار صدر اردوان کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس کے بعد ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ سوچی اور آستانہ معاہدوں کے تحت متعین کردہ محفوظ علاقے ہماری حدود تصور کیے جاتے ہیں۔ جب کہ تُرک وزیر خارجوزیر خارجہ مولود چاوش اولو نے کہا ہے کہ ادلب کی صورتِ حال ابھی تک غیر یقینی ہے اور اس سلسلے میں روس کا ایک وفداس موضوع سے متعلق بات چیت کرنے کی غرض سے ترکی آرہا ہے۔ مولود چاوش اولو نے ان خیالات کا اظہار سلوواکیہ کے وزیر خارجہ میروسلاو لاجک کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ادلب میں شہریوں کے خلاف بشار الاسد انتظامیہ کے حملوں کی وجہ سے جو سنگین صورتِ حال پیدا ہوئی ہے، اس پر قابو پانے اور حالات کی بہتری کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بشار انتظامیہ نے 3 فروری کو ترک فوجیوں پر حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں 8 ترک فوجی شہید ہوئے تھے، لیکن ہم نے بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دیا ہے اور ہم نے روس کو بھی اپنے غم و غصے سے آگاہ کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر رجب طیب اردوان نے 2 روز قبل روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن سے ٹیلی فون پر اس حوالے سے گفتگو بھی کی ہے۔
