ڈھاکا (انٹرنیشنل ڈیسک) خلیج بنگال میں ایک کشتی ڈوبنے سے کم از کم 16 تارکین وطن جاں بحق ہوگئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق بنگلادیشی حکام نے بتایا کہ مہاجر کیمپوں میں مقیم خاندان بہتر مستقبل کی تلاش کے لیے ملائیشیا جانا چاہتے تھے۔ وہ بنگلادیش کے جنوبی ساحلوں روانہ ہوئے، تاہم جزیرہ مارٹن کے نزدیک ان کی کشتی مسافروں کا بوجھ برداشت نہ کرسکی اور الٹ گئی۔ کشتی پر سوار 125 میں سے 70مسافروں کو بچا لیا گیا ہے۔ بنگلادیشی ساحلی محافظوں اور بحریہ کے غوطہ خور اب تک 14 خواتین، ایک بچے اور ایک مرد کی لاش نکال چکے ہیں۔ اس کشتی پر سوار روہنگیا مہاجرین کو انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروہ ملائیشیا لے جا رہے تھے۔ تاحال تقریباً 40 مسافر لاپتا ہیں، جن کی تلاش کے لیے امدادی کارروائی جاری ہے۔ کاکسس بازار کے ایڈیشنل پولیس سپرنٹنڈنٹ اقبال حسین نے بتایا کہ ایک بچے سمیت ڈوبنے والوں کی لاشیں قریبی جزیرے شاہ پوریر کے ساحل پر لائی گئی ہیں۔ میانمر میں 2017ء میں فوج اور انتہا پسند بدھ پیروکاروں نے روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام کیا اور خواتین کی عصمت دری کی تھی، جب کہ ان کی املاک نذر آتش کردی تھیں۔ اس ریاستی دہشت گردی کے باعث عرصہ حیات تنگ ہونے پر 8 لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان ہمسایہ ملک بنگلادیش ہجرت کرنے اور کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے تھے۔ کیمپوں میں حالات سنگین ہوسکتے ہیں، جہاں مستقبل میں ملازمت کے امکانات یا حقیقی معنوں میں تعلیم کی فراہمی کی بہت کم امید ہے۔ روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پر عالمی فوجداری عدالت میں ایک چھوٹے افریقی ملک گیمبیا کی جانب سے 11 نومبر کو میانمر کے خلاف شکایت درج کرائی گئی تھی، جس کی سماعت کے موقع پر نوبل انعام یافتہ سربراہ میانمر آنگ سان سوچی نے حیران کن طور پر فوجی جبر کی حمایت کی تھی۔
خلیج بنگال: سمندر کی نذر ہونے والی کشتی پر سوار روہنگیا مہاجرین کی لاشیں،زندہ بچ جانے والے مسافروں کو جیٹی پر پہنچایا گیا ہے
خلیج بنگال میں کشتی ڈوب گئی،16 رہنگیا تارکین وطن جاں بحق
القمر
