نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ مجوزہ مشرقِ وسطیٰ امن منصوبے کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جمع کرائی جانے والی قرارداد واپس لے لی گئی۔ سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کو اس قرارداد کی منظوری کے لیے درکار بین الاقوامی حمایت حاصل نہیں ہوسکی۔ سلامتی کونسل میں یہ قرارداد انڈونیشیا اور تیونس نے جمع کرائی تھی۔ اس کی منظوری کے لیے کونسل کے 15 میں سے 9 ارکان کی حمایت درکار تھی۔ جب کہ اس کو کوئی مستقل رکن کی جانب سے ویٹو ہونے سے بھی بچانا تھا۔ اس بات کا قوی امکان تھا کہ امریکا اس کو ویٹو کردے گا۔ تاہم تیونسی حکومت نے بتایا ہے کہ سلامتی کونسل میں منگل کے روز فلسطین کی حمایت میں جو قرارداد پیش کی گئی تھی اسے مؤخر کیا گیا ہے، تاکہ اس پرمزید مشارت کی جاسکے اور اس کی منظوری کے زیادہ امکانات پیدا کیے جاسکیں۔ تیونسی ایوان صدر کے ذمے دار ذرائع کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ میں تیونس کے سفیر منصف بعتی نے پیر کے روز عہدے سے استعفا بھی دے دیا تھا۔ انہوں نے ہی سلامتی کونسل میں یہ قرارداد پیش کرنی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تیونس کا قضیہ فلسطین اور فلسطینی قوم کے حق خود ارادیت سے متعلق موقف اصولی اور اٹل ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ دوسری جانب منگل کے روز فلسطینی صدر محمود عباس نے سلامتی کونسل سے خطاب کیا، جس میں ان کا کہنا تھا کہ وہ سلامتی کونسل میں اس لیے آئے ہیں کہ فلسطینی قوم کی جانب سے امریکی منصوبے ’’صدی کا معاہدہ‘‘ کو مسترد کیا جانا ایک بار پھر ریکارڈ پر لاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم امریکی منصوبے کو ہرگز قبول نہیں کریں گے، بلکہ اس کے خلاف مزاحمت جاری رکھیں گے۔ دوسری جانب اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ نے مسلمان ممالک کی حکومتوں اور عوام پر زور دیا ہے کہ وہ امریکا کے نام نہاد مشرق وسطیٰ امن منصوبے کے خلاف فلسطینیوں کے عزم اور جدو جہد کی مدد کریں۔ حماس نے عرب اور مسلمان ممالک میں فلسطینی قوم کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ہونے والے مظاہروں کو سراہا، اور کہا کہ مسلمان اور عرب ممالک کی حکومتیں بھی اپنی عوام کے ہم آواز ہو کر فلسطینی قوم کے حقوق کی حمایت کے لیے آواز بلند کریں۔ حماس کے ترجمان عبداللطیف القانوع نے ایک بیان میں کہا کہ ان کی جماعت پوری دنیا میں فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے بلند ہونے والی آوازوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ اس حوالے سے مراکش کے دارالحکومت رباط اور ترکی کے دیار بکر میں فلسطینیوں کی حمایت اور ٹرمپ کے منصوبے کے خلاف نکلنے والے لاکھوں عوام نے فلسطینی قوم کے دل جیت لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالم اسلام میں امریکی منصوبے کے خلاف اٹھنے والی آوازوں نے صہیونی ریاست کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھانے والے عرب ممالک کی حکومتوں کو بے نقاب کردیا ہے۔ دنیا بھر بالخصوص مسلم اور عرب ممالک میں ہونے والے مظاہروں نے ثابت کیا ہے کہ عالم اسلام قضیہ فلسطین کو تباہ کرنے کی کسی بھی عالمی سازش کو ناکام بنانے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔
نیویارک/ فلسطین: صدر محمود عباس سلامتی کونسل میں صہیونی توسیع کا نقشہ اور ٹرمپ کے منصوبے کی مخالفت کرنے والے امریکی کانگریس کے ارکان کا خط دکھا رہے ہیں‘ قابض صہیونی فوج الخلیل کے نواحی علاقے العروب کیمپ سے 13 سالہ عامر عویضات کو گرفتار کرکے لے جارہی ہے‘ ماں چھڑانے کی کوشش کررہی ہے‘ انڈونیشیا اور ملائیشیا کے مسلمان حرم ابراہیمی کا دورہ کررہے ہیں‘ اسرائیلی اہل کاروں نے مسجد پر دھاوا بول رکھا ہے
فلسطینی بے سہارا ،سلامتی کونسل سے قرارداد واپس
القمر
