رواں سال 1155 واقعات رپورٹ ہوئے ‘جناح اسپتال میں یومیہ 30 سے زائد کیس رپورٹ ہورہے ہیں
انڈس اسپتال ریبیزپریوینشن سینٹر میں یومیہ 30 سے زائد کتے کے کاٹے کے کیسزرپورٹ ہورہے ہیں
محکمہ صحت نے نااہلی چھپانے کیلئے ذمہ داری شہریوں پر ڈال دی،گزشتہ سال ریبیزسے 24ہلاکتیں ہوئیں
ایک ہزار 73 مریضوں کو ویکسین دی گئی، اسپتال مختلف اسپتالوں میں رپورٹ ہونے والے واقعات اس کے علاوہ ہیں
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) کراچی میں کتے کے کاٹے کے واقعات تھم نہ سکے ، سول اسپتال کراچی میں یومیہ ایک سو سے زائد کتے کے کاٹے کے کیسز رپورٹ ہونے لگے ، جناح اسپتال میں یومیہ 30 سے زائد کیسز رپورٹ ہورہے ہیں۔ انڈس اسپتال ریبیزپریوینشن سینٹر میں یومیہ 30 سے زائد کتے کے کاٹے کے کیسزرپورٹ ہورہے ہیں، رواں سال جناح اسپتال اورانڈس اسپتال میں ایک ہزا سے زائدکتے کے کاٹے کے واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں۔ سول اسپتال میں رواں سال کتے کے کاٹنے سے تاحال 3710 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں،اسپتال انتظامیہ کے مطابق سول اسپتال میں رواں ماہ 1155کتے کے کاٹے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ گزشتہ ماہ کتے کے کاٹے سے 2555کیسز رپورٹ ہوئے ،ایک ہزار 73 مریضوں کو ویکسین دی گئی ہے جبکہ کراچی کے مختلف اسپتالوں میں کتے کے کاٹے کے کیسز رپورٹ ہورہے ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال صوبے میں سگ گزیدگی کے واقعات کے ساتھ لاعلاج مرض ریبیز کے باعث 24 اموات ہوئیں۔ سگ گزیدگی کے دو لاکھ سے زائد واقعات پیش آئے۔ واضح رہے کہ صوبائی وزیر صحت آوارہ کتوں کو پتھر نہ مارنے کی تلقین کرتی رہی تھیں لیکن کتا مار مہم کا کوئی آغاز نہیں ہوسکا تھا۔ سندھ میں آوارہ کتوں کے کاٹے سے 2 لاکھ سے زائد شہری متاثر ہوئے ، یہ وہ تعداد ہے جس سے محکمہ صحت آنکھیں چراتا ہے ، اپنی نااہلی اور نالائقی کو چھپانے کا ملبہ شہریوں پر ڈالا گیا تھا۔ آوارہ کتوں کو مارنے ، پکڑنے کے بجائے ان واقعات کا ملبہ کبھی شہری حکومت اور کبھی شہریوں پر ہی ڈال دیتا ہے۔ وزیر صحت ویکسی نیشن کی قلت اور سگ گزیدگی کے واقعات پیش آنے پر بار بار یہی کہتی رہیں کہ بچے آوارہ کتوں کو پتھر نہ ماریں۔محکمہ صحت کے گزشتہ سال اکتوبر تک کے اعدادوشمار کے مطابق سال بھر میں ایک لاکھ 86 ہزار 579 سے زائد سگ گزیدگی کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ سندھ بھر کے اسپتالوں میں اے آر ویکسین کی قلت اور شہریوں کو آگاہی نہ ہونے پر 24 جانیں بھی ضائع ہوئی تھیں۔

