بغداد (انٹرنیشنل ڈیسک) عراق میں پولیس نے دارالحکومت بغداد کے وسط میں مظاہرین کی جانب سے بند کیا گیا سنک پل ٹریفک کے لیے کھول دیا ہے۔ عرب ذرائع ابلاغ کے ذرائع کے مطابق عراقی پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں نے سنک پل پر کھڑی کی گئی تمام رکاوٹیں اور کنکریٹ کے بلاک ہٹا دیے ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ وسطی بغداد میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دوسرے اداروں کے اہل کاروں کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ کئی روز سے ٹریفک کے لیے بند بریج کو دو طرفہ ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے پل پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ خیال رہے کہ وسطی بغداد کا سنک پل مظاہرین کی ہلاکتوں کے لیے مشہور ہے۔ حالیہ عرصے کے دوران ہونے والے پُرتشددمظاہروں میں اس پل پر بڑی تعداد میں مظاہرین ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں۔ ادھر بغداد کی تحریر اسکوائر میں نامعلوم افرادنے دھرنا دینے والی خواتین پر لاٹھیوں اور چھریوں سے حملہ کیا۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا کہ نامعلوم مسلح نقاب پوش عناصر نے الفارابی دھرنا کیمپ میں گھس کر وہاں پر موجود خواتین اور دیگر مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کئی مظاہرین زخمی ہوگئے۔ عراق میں انسانی حقوق کے ہائی کمیشن نے عراق کے مختلف شہروں میں پولیس اور مظاہرین میں ہونے والے تشدد کی رپورٹس جاری کی ہیں۔ انسانی حقوق ہائی کمیشن کے مطابق گزشتہ عراق کے جنوبی شہر ذی قار میں وثبہ اسکوائر میں ہونے والے تشدد سے ایک شخص ہلاک جب کہ بغداد اور نجف میں کئی افراد کو اغوا کر لیا گیا۔
عراقی پولیس نے بغداد کا اہم پل واگزار کرالیا
القمر
