نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) ریاست دہلی کے انتخابی معرکے میں تیسری بار فتح حاصل کرنے کے بعد یہ سوال ہونے لگا ہے کہ کیا اروند کیجریوال کی عام آدمی پارٹی بھارت کی دیگر ریاستوں میں بھی اپنی قسمت آزمائے گی۔ نومبر 2016ء میں دہلی کے وزیر اعلیٰ ہاؤس میں اروند کیجریوال نے ایک انٹریو میں کہا تھا کہہم آگے چل کر لوک سبھا کے انتخابات میں بھی بہت بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔ عام آدمی پارٹی بھارت کی شمال مشرقی اور جنوبی ریاستوں میں بھی اپنی قسمت آزمائے گی، کیوں کہ عوام ایمانداری پسند کرتے ہیں۔ 2014ء کے عام انتخابات میں عام آدمی پارٹی نے پنجاب میں لوک سبھا کی 4 نشستوں پر فتح حاصل کی تھی، جب کہ دہلی کی ساتوں نشستوں پر انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ان تمام نشستوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی نے جیت حاصل کی تھی۔ ان انتخابات میں خود اروند کیجریوال اس وقت کے وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار نریندر مودی کا مقابلہ کرنے بنارس پہنچے تھے۔ نریندر مودی نے انہیں 3 لاکھ ووٹوں سے شکست دی تھی، لیکن بی جے پی کا گڑھ سمجھے جانے والے بنارس میں کیجریوال کو تقریباً 2 لاکھ ووٹ ملنا ایک بہت بڑی بات تھی۔ اس کے بعد دہلی کے اسمبلی انتخابات میں عام آدمی پارٹی نے کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو صاف کر دیا تھا۔ دہلی کی 70 نشستوں پر انہوں نے 67 نشستوں پر فتح حاصل کر کے تاریخ رقم کی، لیکن اس کے فوراً بعد عام آدمی پارٹی کے اندر اختلافات بڑھنے لگے۔ دانشور اور سماجی کارکن یوگیندر یادو اور پرشانت بھوشن کو پارٹی سے برخاست کیا گیا اور 2017ء کے پنجاب اسمبلی کے انتخابات میں عام آدمی پارٹی کو بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ سینئر صحافی پردیپ سنگھ کہتے ہیں کہپنجاب میں کیجریوال کی شکست کی ایک بڑی وجہ یہی تھی کہ وہاں انہوں نے یہ کہنے سے گریز کیا کہ اگر ان کی پارٹی پنجاب میں جیت حاصل کرے گی تو وہ خود دہلی چھوڑ کر پنجاب نہیں آئیں گے۔
عام آدمی پارٹی مودی کے لئے ڈرائونا خواب بن گئی
القمر
