کابل،واشنگٹن( خبر ایجنسیاں )افغان حکومتی عہدیدار نے دعوی کیا ہے کہ طالبان کی جانب سے کارروائیوں میں واضح کمی کی صورت میں امریکا اور طالبان کے درمیان معاہدے پر دستخط رواں ماہ ہوسکتے ہیں جس کے نتیجے میں امریکی فوج بتدریج دستبردار ہوگی۔رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق افغان حکومت اور مغربی سفارتی ذرائع کا کہنا تھا کہ اگر طالبان نے اپنی کارروائیوں میں واضح کمی کی تو پھر فروری میں ہی معاہدے پر دستخط ہوسکتے ہیں۔اس سے قبل افغان صدر اشرف غنی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ قطر میں امریکا اور طالبان کے میں جاری مذاکرات میں بریک تھرو کا امکان موجود ہے۔رپورٹس کے مطابق دونوں فریقین میں مذاکرات میں تعطل امریکا کی جانب سے طالبان کو اپنی کارروائیاں کم کرنے کے مطالبے پر تھا اور اب افغان طالبان امریکی فوج کے انخلا کے معاہدے کی صورت میں کارروائیوں میں فوری طور پر کمی لانے کے لیے تیار ہوگئے ہیں۔قطر میں موجود طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ کافی پیش رفت ہوئی ہے لیکن مزید تفصیلات بتانے سے انہوں نے انکار کردیا۔خیال رہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان قطر میں امن عمل کے حوالے سے مذاکرات گزشتہ ایک برس سے زائد عرصے سے ہو رہے ہیں لیکن افغانستان میں دونوں جانب سے ایک دوسرے کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔افغان عہدیدار نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ امریکا نے معاہدے پر اصولی طور پر اتفاق کرلیا ہے لیکن دستخط اس وقت تک نہیں ہوں گے جب تک طالبان کارروائیوں میں کمی کا عملی مظاہرہ نہیں کرتے۔شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر افغان عہدیدار نے کہا کہ معاہدے پر دستخط رواں ماہ ہوسکتے ہیں۔کابل میں موجود مغربی سفارت کا کہنا تھا کہ امریکا کے مذاکرات کار طالبان کو کارروائیوں میں کمی لانے کے لیے تیار کرنے کے منصوبے پر کام کر رہے تھے اور گزشتہ 10 روز سے بڑی کارروائیوں میں کمی آئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 10 روز کے دوران کشیدگی میں آنے والی کمی کے بعد دونوں فریقین مذاکرات کر سکتے ہیں اور بین الافغان مذاکرات کے لیے بھی تیار ہوں گے۔دوسری جانب امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے کہا ہے کہ افغانستان میں امریکی فوج کی تعداد کم کر کے 8600 تک لانے کی تجویز زیر غور ہے۔امریکی وزیر دفاع نے بیلجئیم کے شہر برسلز میں صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایسا افغانستان میں موجود کمانڈرز کی سفارشات کی روشنی میں سوچا جا رہا ہے کہ ہم اپنے فوجیوں کی تعدادبہ آسانی آٹھ ہزار چھ سو تک لے جا سکتے ہیں، ہم پر اعتماد ہیں کہ ہم اتنی تعداد کے ساتھ اپنا مشن جاری رکھ سکیں گے۔وائس آف امریکا کی نمائندہ کارلا بیب کے مطابق طالبان سے ممکنہ سمجھوتے کی صورت میں افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلاء سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی تشدد کے واقعات کم ہوتے ہیں، انخلا شروع ہو سکتا ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان سے تمام امریکی فوجیوں کے انخلا کی بات نہیں ہو رہی۔ واضح رہے کہ اس وقت افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد تقریباً تیرہ ہزار ہے۔
طالبان کارروائیوں میں فوری کمی لانے کیلیے تیار ‘ برطانوی رپورٹ:فوج میں کمی زیرغور ہے‘ امریکا
القمر
