مفتی منیب الرحمن
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو رسول اللہؐ کی ذات کے ساتھ جوڑ کر ’’اِثنَین‘‘ سے تعبیر فرمایا اور سورۂ توبہ آیت40 میں غارِ ثور کے منظر کو اِن کلماتِ طیبات میں بیان فرمایا: ’’دو میں سے دوسرا جب کہ وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے صاحب سے فرما رہے تھے: غم نہ کرو، بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے، پس اللہ نے اْن پر قلبی طمانیت نازل فرمائی‘‘۔ اس آیت میں قرآنِ مجید کا کمالِ اعجاز ہے کہ رسول اللہؐ اور ابوبکر صدیقؓ کا ذکر ایک ساتھ فرمایا اور یہ ذکرِ مبارک اللہ تعالیٰ کو اس قدر پسند ہے کہ آیت کے ایک حصے میں دونوں کا مختلف انداز میں چھ چھ بار ذکر فرمایا۔
سفرِ ہجرت میں ابوبکر صدیقؓ کی رسول اللہؐ کے ساتھ رفاقت اور غارِ ثور میں بلاشرکتِ غیرے معیّتِ مصطفیؐ ایسا لارَیب شرف ہے کہ اِس کے مصداق میں اہلِ سنت اور اہلِ تشیّع کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ مشہور قول ہے: ’’مَن اَحَبَّ شَیئاً اَکثَرَ ذِکرَہ‘‘ یعنی جو جس سے محبت کرتا ہے، وہ اْس کا کثرت سے ذکر کرتا ہے، پس اللہ تعالیٰ کا اس ایک آیت میں رسول اللہؐ اور آپ کے رفیقِ غار ابوبکر صدیقؓ کا بالترتیب دس بار اور چھ بار مدح کے طور پر ذکر کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ دونوں ہستیاں اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں۔ معیّت ورفاقت تو آج روضۂ انور میں بھی ہے، حشر میں بھی ہوگی اور یقینا جنت میں بھی ہوگی۔ امام فخر الدین رازی نے لکھا ہے: اللہ تعالیٰ نے النساء 69 میں انعام یافتہ طبقات کا ذکر فرمایا اور اْس میں مقامِ نبوت کے بعد مقامِ صدیقیت کو بلافصل بیان کر کے بتادیا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک نبوت کے بعد یہ اعلیٰ ترین منصب ہے، اسی طرح آپؐ کے بعد ابوبکر صدیقؓ کی خلافت بھی بلا فصل ہے۔
قرآنِ مجید میں ایک سے زائد مرتبہ عظمتِ رسالت مآبؐ کے لیے باری تعالیٰ نے یہ انداز اختیار فرمایا کہ جب مخالفین نے عِناد کی بنیاد پر رسول اللہؐ پر کوئی الزام لگایا یا آپ پر عِیَاذاً بِاللہ! کوئی طعن کیا تو اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی صفائی بیان فرمائی، بعینہ یہی شِعار ہمیں سیرتِ ابوبکرِ صدیقؓ کے بارے میں بھی نظر آتا ہے۔
سعید بن مسیَّب کی روایت میں ہے کہ آپ نے اپنے غلام نِسطاس کے عوض سیدنا بلالؓ کو خرید کر آزاد کردیا اور اْس کے پاس کافی مال تھا، وہ بھی اْمَیَّہ کو دے دیا۔ ابوبکرؓ نے اس سے کہا: تم مسلمان ہوجاؤ تو یہ سب مال تمہارا ہوجائے گا، اس نے انکار کردیا جس وجہ سے سیدنا ابوبکر اس سے ناراض ہوگئے اور جب اْمَیَّہ نے کہا: میں بلال کو نِسطاس کے عوض بیچتا ہوں تو ابوبکرؓ نے اس کو غنیمت جانا اور نِسطاس کے عوض بلالؓ کو خرید لیا۔
اس موقع پر مشرکین نے طعن کیا اورکہا: ابوبکر نے جو بلال کو اتنی مہنگی قیمت پر خریدا ہے، لازم ہے کہ بلال نے اْن پر کوئی احسان کیا ہوگا، جس کا بدلہ انہوں نے چکایا ہے۔ اْس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں: ’’اور عنقریب جہنم کی اِس آگ سے اْسے دور رکھا جائے گا، جو سب سے زیادہ متقی ہے، (یہ وہ شخص ہے) جو اپنا مال اس لیے دیتا ہے کہ (اْس کا دل) پاک ہوجائے اور اْس پر کسی کا کوئی احسان نہیں ہے جس کا بدلہ چکایا جارہا ہو، وہ اپنے بزرگ وبرتر پروردگار کی رضا کے لیے (مال خرچ کرتا ہے) اور عنقریب وہ ضرور راضی ہوگا‘‘۔ (اللیل:17-21) (السیرہ النبویہ) اَھلْ السّْنۃ والجماعۃ کے تمام مفسرین کا اس امر پر اتفاق ہے کہ اِن آیاتِ مبارکہ کا مصداق صرف اور صرف سیدنا ابوبکر صدیقؓ ہیں۔
سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے مختلف مواقع پر دیکھا کہ بلال بن رباحؓ پر اْن کا آقا بے پناہ ظلم کرتا تھا، تو ابوبکر صدیق نے انہیں خرید کر اللہ کی رضا کے لیے آزاد کردیا۔ اسی طرح آپ نے چھ غلاموں کو اْن کے آقاؤں کے ظلم وستم سے بچانے کے لیے خرید کر آزاد کیا، اْن کے نام یہ ہیں: (1) عامر بن فہیرہ، یہ بئر معونہ کے موقع پر شہید ہوئے، (2) اْمِّ عْمَیس، (3) زْنَیرہ، اِن کی بینائی چلی گئی تھی، اللہ تعالیٰ نے کفار کے طعن کے بعد لوٹا دی، (4,5) نہدیہ اور اْن کی بیٹی، (6) بنو مؤمل کی باندی۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے تمام انبیائے کرام علیہم السلام کو بلند درجات عطا فرمائے ہیں، لیکن اْن میں سے بعض کو بعض پر درجات میں فضیلت حاصل ہے اور یہی تفضیلِ درجات اللہ تعالیٰ کے انبیائے کرام و رْسلِ عظام کے درمیان بھی موجود ہے اور اس کا بیان اللہ تعالیٰ نے سورہؐ بقرہ آیت 253 میں فرمایا ہے۔ خود رسول اللہؐ نے بھی دیگر انبیائے کرام علیہم السلام پر اپنی فضیلت کی وجوہ کو صراحت کے ساتھ بیان فرمایاہے، اگرچہ اپنی جگہ ہر نبی کا رْتبہ بلند ہے۔ اسی طرح تمام اہلِ بیت اطہار اور صحابہ کرامؓ اعلیٰ مراتب کے حامل ہیں، ہماری عقیدت ومحبت کا مرجع اور محور ہیں اور ہم اْن میں سے کسی کی بھی تنقیص کا تصور نہیں کرسکتے، لیکن ان کے درمیان باہم ایک دوسرے پر فضیلت کی گنجائش موجود ہے اور قرآن وسنت میں مختلف انداز میں اس کا بیان بھی ہے۔ لیکن اس باہم تفاضْل کا بیان نفسْ الامر اور حقیقتِ واقعی کے طور پر ہونا چاہیے، اِس سے تعریض، توریہ، اشارہ و کنایہ اور ایہام کے طور پر کسی دوسرے صحابی کی تنقیص مراد لینا باطل ہے۔ ابوبکرصدیقؓ ہمیشہ ایثار اور جاں نثاری کا استعارہ اور حوالہ رہے اور ان شاء اللہ العزیز تاقیامت رہیں گے۔
سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی ذات پر سید المرسلینؐ کے غیر معمولی اعتماد کا ثبوت یہ ہے کہ آپؐ نے نہ صرف انہیں بلکہ اْن کے پورے گھرانے کو ہجرت کی تیاری اور سفرِ ہجرت کے موقع پر امین بنایا، اس میں اْن کی بیوی، صاحبزادی، فرزند اور غلام الغرض سب شامل تھے۔ یہ ابوبکر صدیقؓ کی استقامت ہی تھی کہ خاتم النبیینؐ کے وصالِ مبارک کے بعد انتہائی نازک دور میں امورِ خلافت کو سنبھالا اور اْسے منہاجِ نبوت پر اْستوار کیا۔ آپ ہی نے یہ شِعار قائم کیا کہ حالات کیسے ہی پْرخطر کیوں نہ ہوں، اطاعت واتّباعِ مصطفیؐ سے انحراف نہیں کیا جائے گا اور ’’مقامِ اْبنیٰ‘‘ کی طرف ’’جیشِ اْسامہ‘‘ کی روانگی اس کی روشن مثال ہے۔ آپ نے یہ شِعار بھی قائم کیا کہ حالات کتنے ہی ناسازگار ہوں، اصولوں پر کوئی مفاہمت نہیں ہوسکتی، منکرینِ زکوٰۃ اور منکرینِ ختمِ نبوت کی سرکوبی اس کی واضح مثال ہے۔ آپ نے اپنے اوّلین خطبۂ خلافت میں اپنا منشور بیان کرتے ہوئے یہ اصول وضع کیا کہ ہر تنقید سے بالاتر اور معصوم عن الخطا صرف ذاتِ رسالت مآبؐ ہے، آپ کے بعد ہر صاحبِ اقتدار واختیار کو قرآن وسنت کے معیار پر پَرکھا جائے گا اور اِسی پیمانے پر اْس سے اتفاق یا اختلاف کیا جاسکے گا، کوئی بڑے سے بڑا صاحبِ منصب اپنی ذات میں قطعی حجت نہیں ہے۔
’’ثانی اثنین‘‘ کا مظہر صرف سفرِ ہجرت پر ہی موقوف نہیں ہے، بلکہ رسول اللہؐ کی تئیس سالہ نبوی زندگی میں قدم قدم پر یہ منظر ہمیں نظر آئے گا۔ آپ ایمان اور دعوت وتبلیغِ دین میں بھی ’’ثانی اثنین‘‘ ہیں، اسلام کے ابتدائی دور میں آپ ہی کی دعوت و ترغیب سے اسلام کے تابندہ ستارے عثمان بن عفان، عثمان بن مظعون، طلحہ بن عبیداللہ، زبیر بن عوام، عبدالرحمن بن عوف اور سعد بن ابی وقاصؓ مشرّف باسلام ہوئے۔ اِن میں سے پانچ حضرات عَشرۂ مبشّرہ میں سے ہیں جنہیں رسول اللہؐ نے دنیا ہی میں جنت کی بشارت دیدی تھی۔ اسی طرح رسول اللہؐ جب مرضِ وفات میں مبتلا ہوئے، تو آپؐ نے ابوبکرصدیقؓ کو مصلّیٰ امامت پر اپنا جانشین بنایا اور آپ نے رسول اللہؐ کی حیاتِ طیبہ میں سترہ نمازوں کی امامت فرمائی۔
جب ابوبکرؓ کی بیعت کی گئی تو علی اور اْن کے ساتھیوں نے بیعت کی، اْس موقع پر ابوبکرؓ تین مرتبہ کھڑے ہوکر لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: لوگو! میں نے تمہاری بیعت کو لوٹا دیا ہے، مبادا تم میں سے کوئی اس بات کو ناپسند کرے؟ ابوجحّاف بیان کرتے ہیں: پھر سیدنا علی کھڑے ہوئے اور فرمایا: اللہ کی قسم! ہم آپ کی بیعت کو واپس نہیں لیں گے اور نہ کبھی اس کا مطالبہ کریں گے، آپ کو رسول اللہؐ نے نماز میں ہمارا امام بنایا، تو کون ہے جو آپ کو (خلافت میں) پیچھے رکھے۔ (فضائل الصحابہ لامام احمد بن حنبل:101) شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ نے ’’لمعات‘‘ میں اسی کے ہم معنی روایت لکھی ہے۔
