English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارتی فوج میں خواتین کو مساوی اختیارات دینے کا حکم

القمر

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی عدالت عظمیٰ نے خواتین کو فوج میں مساوی اختیارات دینے کا حکم دے دیا، جس کے بعد وہ فوج میں کمانڈنگ پوزیشن حاصل کرسکیں گی۔ خبررساں اداروں کے مطابق عدالت نے اپنے فیصلے میں حکومت کی طرف سے جمع کرائے گئے جواب کو فرسودہ اور صنفی امتیاز پر مبنی قرار دیا۔ سپریم کورٹ کے جج جسٹس دہنن جایا اور اجے رستوگی پر مشتمل 2 رکنی بینچ کا اپنے فیصلے میں کہنا تھا کہ فوج میں خواتین افسروں کو بھی مردوں کی طرح مستقل کمیشن دیا جائے۔ فیصلے میں حکومت کو 3ماہ کا وقت دیا گیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل یقینی بنائے۔ واضح رہے کہ بھارتی حکومت نے ہائی کورٹ کی جانب سے 10برس قبل سنائے گئے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، جس میں خواتین افسروں کو مردوں کے مساوی ترقی کے مواقع دینے کے احکامات شامل تھے۔ حکومت نے موقف اختیار کیا تھا کہ بیشتر فوجی جوانوں کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے اور وہ نفسیاتی طور پر خواتین کی کمانڈنگ پوزیشن قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے حکومت کے جواب پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے پریشان کن قرار دیا۔ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارت میں مروجہ طریقہ کار کے تحت فوج کی خواتین افسر مختصر سروس کمیشن کے تحت 10سے 14سال تک آرڈیننس، ایجوکیشن کمانڈ، انجینئرنگ، سگنلز، انٹیلی جنس، الیکٹریکل اور مکینکل برانچز میں شامل ہو سکتی ہیں۔ تاہم سپریم کورٹ نے تمام خواتین افسران کے لیے مستقل کمیشن دینے کا حکم دیا ہے۔ ادھر بھارت کے سابق لیفٹیننٹ جنرل اتپل بھٹاچارجی نے عدالتی فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے