مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے کی بستیوں اور غرب اردن کے دیگر علاقوں پر خودمختاری کے لیے باقاعدہ کام شروع کردیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق صہیونی ریاست کی طرف سے یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے پیش کیے گئے نام نہاد امن منصوبے کے بعد کیا گیا ہے۔ عبرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل امریکا نقشہ ساز کمیٹی نے صدی کے سمجھوتے کی شرائط کے مطابق اسرائیلی ریاست کے نئے نقشے کی تیاری شروع کردی ہے۔ عبرانی اخباراسرائیل ہیوم کی خبر کے مطابق کمیٹی مغربی کنارے کے علاقوں کے اسرائیل سے الحاق کا تعین کرنے کے لیے قائم کی گئی ہے۔ اسرائیلی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدے دار نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے الحاق اور خودمختاری کی نقشہ ساز کمیٹی کے لیے 2امریکی مندوبین کو مقرر کیا ہے۔ کمیٹی میں اسرائیل میں متعین امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈمین، سفیر کے معاون خصوصی اور مشیر اریا لائٹسٹن اور اسکاٹ لیتھ شامل ہیں۔ واضح رہے کہ 28 جنوری 2020ء کو امریکی صدر نے مشرق وسطیٰ کے لیے اپنے نام نہاد منصوبے کا اعلان کیا تھا،جس کے تحت وادی اردن اور دوسرے فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی ریاست کی خود مختاری کو تسلیم کرلیا گیا تھا۔ دوسری جانب حماس نے کہا ہے کہ اسرائیل کا نقشے کی تیاری کے لیے امریکااسرائیل کمیشن بنانا فلسطینی عوام پر حملے کے مترادف ہے۔ حماس کے ترجمان حازم قاسم نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کی حوصلہ افزائی سے قابض قوتیں تمام بین الاقوامی قوانین کے خلاف بغاوت کر رہی ہیں۔ یہ حرکتیں دریائے اردن کو آزاد کروانے اور یہودی آبادکاروں کی واپسی کے لیے جاری فلسطینی عوام کی جدوجہد کو ہرگز روک نہیں سکیں گی۔
مقبوضہ بیت المقدس: قابض اسرائیلی فوج کے پہرے میں صہیونی انتظامیہ فلسطینی علاقوں میں زمین پر قبضے کے لیے کھدائی کا کام کررہی ہے
امریکی منصوبہ غرب اردون پر اسرائیلی خودمختاری کے کام کا آغاز
القمر
