تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایرانی صدر حسن روحانی نے کہاہے کہ ہم جنگ کے خلاف ہیں اور امید کرتے ہیں کہ امریکا بھی اس کے خلاف ہوگا۔ تہران میں پریس کانفرنس کے دوران صدر روحانی کا کہنا تھا کہ خلیج بصرہ میں ایک ممکنہ جنگ سب کے لیے نقصان دہ ہوگی کیوں کہ ہمیں پتا ہے کہ جنگ میں نقصان کی قیمت کیا ہوتی ہے۔ صدر ٹرمپ انتخابات جیتنے کی دھن میں اپنی تمام پالیسیاں استعمال کر رہے ہیں مگر انہیں یہ بھی پتہ ہے کہ جنگ انتخابات میں کامیابی کا نتیجہ نہیں بن سکتی۔ ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان خفیہ مذاکرات کے سوال پر اْن کا کہنا تھا کہ ابوظبی حکومت سے ہمارا رابطہ ہمیشہ رہا ہے البتہ سعودی حکومت سے مذاکرات کے سلسلے میں پاکستان،عراق اور یورپی یونین کے توسط سے پیغام ضرور ملا ہے، سعودی عرب جب چاہے ہم سے مذاکرات کر سکتا ہے ، ہمارے خطے میں اہم مسئلہ یمن کا ہے جہاں یمنی عوام اور سعودی عرب کی فوج دونوں مشکلات کا شکار ہیں۔ اس سے قبل ایرانی صدر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکا اگر پابندیاں ختم کردے اور جوہری معاہدے کی طرف واپس آئے تو ہم مذاکرات کی میز پر بیٹھ سکتے ہیں۔ دوسری جانب لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے اپنے ملک کے شہریوں سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ منصوبے کے خلاف اقدام کے طور پر امریکی اشیا اور مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق اتوار کے روز ایک ایک نشری تقریر میں انہوں نے کہا کہ ہم امریکی مصنوعات کا بائیکاٹ کیوں نہیں کررہے ہیں؟ یہ جنگ کا حصہ ہے ۔اگر ہم تمام اشیا کا بائیکاٹ نہیں کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہم بعض کمپنیوں کا انتخاب کرسکتے ہیں اور یہ بھی محاذ آرائی کی ایک قسم ہے۔
تہران: ایرانی صدر حسن روحانی پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں
