حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی ضلع حیدرآباد حافظ طاہر مجید نے کہا ہے کہ پورا حیدرآباد مسائل کا گڑھ بنا ہوا ہے۔بلدیہ سے یوسی تک فنڈز کہاں چلے گئے،کچھ پتا نہیں۔ادارے حرکت میں آئیں تو دودھ اور پانی الگ ہوجائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوسی 23 کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔وفد کی قیادت کبیر احمد اجمیری کررہے تھے۔حافظ طاہر مجید نے کہا کہ بلدیہ حیدرآباد کے ماہانہ کروڑوں اور یوسی کے ماہانہ لاکھوں روپے کے فنڈز خرچ ہوجاتے ہیں مگر زمین پر اس کے اثرات نظر نہیں آتے،کرپشن کا مقامی نام بلدیہ ہے،بلدیہ ماں ہے تو یونین کونسلیں اس کے بچے ہیں۔پورا حیدرآباد اور یونین کونسلیں ترقیاتی کاموں کے نام پر فنڈز تو وصول کرتی ہیں لیکن کام کہیں نظر نہیں آتے،جبکہ شہریوں کو اپنے چھوٹے موٹے کاموں کے لیے دھکے کھانے پڑتے ہیں۔سرکاری ادارے خصوصاً نیب حرکت میں آجائے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی سامنے آجائے گا۔ جو لوگ خاکروبوں کے پیسے کھاجائیں ان کی اخلاقی پستی کیا ہوگی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
بلدیہ نے حیدرآباد کو مسائل کا گڑھ بنادیا ،حافظ طاہر مجید
القمر
