کراچی(نمائندہ جسارت)وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے آئندہ مالی سال میں ہر ضلع میں ایک ماڈل ولیج بنانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے انہوں نے منتخب نمائندوں سے سفارشات مانگ لی ہیں۔ ماڈل ولیجز میں 1000 سے زیادہ آبادی نہیں ہونی چاہیے اور انہیں اسکول ، اسپتال ، پانی کی فراہمی ، صفائی ستھرائی ، سڑکیں ، اسٹریٹ لائٹ ، کمیونٹی سینٹر اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات دی جائیں گی۔ انہوں نے یہ بات منگل کے روز وزیراعلیٰ ہاؤس میں 5 اضلاع میں صوبائی اے ڈی پی کے تحت شروع کی گئی 401ترقیاتی اسکیموں کے جائزہ اجلاسوں کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ مراد علی شاہ نے 5 اضلاع بدین ، ٹھٹھہ ، سجاول ، میرپورخاص اور تھرپارکر کے منتخب نمائندوں سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری سید ممتاز علی شاہ ، سینئر مشیر برائے ورکس نثار کھوڑو ، وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو ، وزیر پپبلک ہیلتھ انجینئرنگ شبیر بجارانی، وزیر تعلیم سعید غنی ، وزیر زراعت اسماعیل راہو ، وزیر آبپاشی سہیل انور سیال ، چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم ،سیکرٹری خزانہ حسن نقوی اور تمام متعلقہ سیکرٹریز ، ایم پی اے ، ایم این اے اور علاقے / ضلع کے سینیٹرز ، ڈویژنل کمشنر ، ڈی آئی جی اور متعلقہ ڈپٹی کمشنرز اور ایس ایس پیز نے شرکت کی۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ اگلے مالی سال میں انکی حکومت نے ہر ضلع کے ایک گاؤں کو ماڈل ولیج بنانے کا اعلان کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ماڈل ولیج کو بہترین تعلیم ، صحت اور پانی کی فراہمی کی اسکیمیں مہیا کی جائیں گی اور یہاں تک کہ ولیج کی سڑکیں اینٹوں بنی ہوئی، اسٹریٹ لائٹس ، شمسی توانائی کی سہولت سے لیس ہونی چاہئیں۔ انہوں نے مختلف اضلاع کے منتخب نمائندوں کو بتایا کہ میں چاہتا ہوں کہ آپ اکٹھے بیٹھ کر معیار کے مطابق ایسے دیہات کی نشاندہی کریں اور انکی سفارشات پر مجھے پیش کریں۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ منتخب نمائندوں کو اپنے اپنے علاقوں میں جاری ترقیاتی کاموں کی اونرشپ دی جائے گی۔ مجھے اگلے اے ڈی پی ، 2020-21 ء کے لیے آپ کے ان پٹ کی ضرورت ہے اور جاری ترقیاتی کاموں بالخصوص کام کی رفتار اور ان کے معیار پر نگاہ رکھنا ہے تاکہ لوگوں کو اپنے علاقے میں بہترین اسکیمیں مل سکیں۔
وزیراعلیٰ سندھ کا ہر ضلع میں ماڈل ولیج بنانے کا فیصلہ
القمر
