نئی دہلی/انقرہ/واشگٹن/جدہ (خبر ایجنسیاں) بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ہونے والے مسلم کش فسادات میں ہلاکتوں کی تعداد 38 ہو گئی ہے،بی جے پی کے غنڈے مسلم نوجوانوں کو چن چن کر قتل کررہے ہیں اور ان کے چہروں پر تیزاب پھینکا جارہا ہے ،سیکڑوںافراد زخمی ہیں ،کئی مساجد شہید ہو چکی، پرتشدد فسادات سے متاثرہ علاقوں میں چوتھے روز بھی ،حملے ، جلائو گھیرائو اورجھڑپیں جاری رہیں جبکہ دہلی مسلم کش فسادات کی سماعت کرنے والے جج مرلی دھرکا کو بی جے پی رہنمائوں کی گرفتار کا حکم دینے کی پاداش میں تبادلہ کرادیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق خبر رساں ادارے کے مطابق دہلی میں مسلم کش فساداب میں اب تک ہلاکتوں کی تعداد 38 ہو گئی ہے، ان ہلاکتوں میں نوجوان، خواتین اور بزرگ بھی شامل ہیں، 36 ہلاکتیں کو گرو تیغ بہادر اسپتال میں ہوئیں جبکہ2 افراد کی موت لوک نائیک جے پرکاش نارائن اسپتال میں ہوئی ۔بھارتی میڈیا این ڈی ٹی وی کے مطابق مظاہرین کے دوران بی جے پی کے انتہا پسندوں نے کارروائیوں کے دوران مسلمانوں کی جہاں املاک جلائیں وہیں پر نئی دہلی کے نواحی علاقے مصطفیآباد میں اسکول کو بھی نذر آتش کر دیا۔بھارتی خبر رساں ادارے ’دی وائر‘ کے مطابق بی جے پی کے دہشت گردوں کی طرف سے ایک اور مسجد کو شہید کر دیا گیا ہے۔ یہ مسجد نئی دہلی کے نواحی علاقے مصطفیآباد میں شہید کی گئی ہے،آر ایس ایس کے انتہا پسندوں نے مسجد فاروقیہ میں توڑ پھوڑ کی اور آگ لگائی، مسجد فاروقیہ میں یتیم بچوں کا مدرسہ بھی قائم تھا، جبکہ دہلی کے ایک اور علاقے میں واقع مینا مسجد پر پیٹرول بم بھی پھینکے گئے۔مقامی شہری کا کہنا تھا کہ بی جے پی کے دہشت گردوں نے لشکروں کے ساتھ حملہ کیا، یہ حملہ رات اڑھائی بجے کے قریب کیا گیا تھا، جہاں مسجد شہید کی گئی وہاں باہر ایک لاش بھی پڑی ملی۔ جسے پولیس اہلکاروں نے اٹھانے نہیں دیا۔ مسجد کے ساتھ ایک گھر تھا جسے انتہا پسندوں نے جلا ڈالا جہاں پر ایک فیملی رکھتی تھی۔ گھر کے ساتھ ساتھ انہوں نے دکانوں کو بھی جلا دیا۔دوسری جانب دہلی کے مختلف علاقوں میں کرفیو نافذ کردیا گیا اور وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے فوج طلب کرنے کی درخواست کردی۔دہلی کی سڑکوں پر پولیس کی سرپرستی میں انتہا پسند ہندوؤں کا راج ہے۔ مسلح جتھوں نے مسلمانوں کی دکانیں اور گھر نذر آتش کردیے جبکہ متعدد مساجد کو شہید کردیا ہے۔شہر میں شدید کشیدگی برقرار ہے اور جنگ زدہ علاقے کا منظر پیش کررہا ہے جبکہ پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات ہے اور 4 مسلم اکثریتی علاقوں میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔متاثرہ علاقوں میں دکانیں اور دفاتر بند ہیں، امتحانات ملتوی ہوگئے ہیں جبکہ خوف و ہراس کا عالم ہے۔ صورتحال اس قدر خراب ہے کہ زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے والی ایمبولینس پر حملے ہورہے ہیں۔ادھر دہلی مسلم کش فسادات کی سماعت کرنے والے ہائی کورٹ کے جج مرلی دھر کا تبادلہ کردیا گیا، جسٹس مرلی نے گزشتہ روز سماعت میں اشتعال انگیز تقریر کرنے والے بی جے پی لیڈروں کے خلاف ایف آئی آر درج نہ کیے جانے پر مرکزی حکومت اور پولیس کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کی رہنما پریانکا گاندھی نے جسٹس مرلی دھر کے تبادلے کو افسوس ناک اور شرم ناک قرار دیا ہے۔دہلی ہائیکورٹ کے جج جسٹس ایس مرلی دھر نے گزشتہ روز دلی فسادات پر 3 سماعتیں کی تھیں جس میں انہوں نے فسادات روکنے میں ناکامی پر دلی پولیس پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔بھارتی صدر کے حکم پر رات گئے جسٹس ایس مرلی دھر کا ٹرانسفر پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ میں کردیا گیا ہے۔ادھرترک صدرطیب ایردوان نے بھارت میں مسلم کش فسادات کی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں ہندوئوں کے ہاتھوں مسلمانوں کاقتل عام ہورہاہے، بھارت میں مشتعل ہجوم بچوں کوسریوں اورڈنڈوں سے ماررہے ہیں۔ اپنے ایک بیان میں ترک صدر نے کہاکہ بھارت میں قتل عام اب ایک بن گیا ہے۔ مسلمان مسلسل قتل کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہندو انتہاپسند یہ کر رہے ہیں۔ میں حیران ہوں کہ بھارت کیسے دنیا میں امن کی حمایت کرے گا۔ صدر رجب طیب ایردوان نے کہاکہ ترکی نفرت اور ناانصافی کے خلاف اور مظلوموں کے حق میں آواز اٹھاتا رہے گا۔امریکا نے انتہائی محتاط انداز میں بھارت پر زور دیا ہے کہ جو لوگ مذہبی فسادات کے پیچھے ہیں وہ خود کو تشدد سے دور رکھیں۔امریکی نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی وسطی ایشیائی امور ایلس ویلز نے ٹوئٹ میں کہ نئی دہلی میں مقتولین اور زخمیوں کے ساتھ ہماری ہمدردیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھارتی وزیراعظم سے امن کی بحالی کا تقاضہ کرتے ہیں۔ایلس ویلز نے زور دیا کہ تمام فریقین امن برقرار رکھیں اور تشدد کا راستہ اپنانے سے گریز کریں۔اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف حالیہ اور خوفناک تشدد کی مذمت کی۔او آئی سی نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ او آئی سی نے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف حالیہ اور خوفناک تشدد کی مذمت کی ہے، جس کے نتیجے میں بے گناہ افراد کی ہلاکت اور زخمی ہونے اور مساجد اور مسلم ملکیت کی املاک کو توڑنے اور توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا گیا۔او آئی سی نے ان گھنائونی کارروائیوں کے متاثرین کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔او آئی سی نے بھارتی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ مسلم مخالف تشدد کی کارروائیوں کے لیے مشتعل افراد اور مرتکب افراد کو دائرے قانون میں لائے اور پورے ملک کے مسلم شہریوں کے ساتھ پورے بھارت میں اسلامی مقدس مقامات کی حفاظت کو یقینی بنائے۔دہلی میں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ہندوئوں اور مسلمانوں میں ہونے والے ان بدترین فسادات میں منظم گروپوں نے مساجد، مزاروں، دکانوں اور مسلمانوں کی دیگر املاک کو نذر آتش کیا۔بدھ کو عالمی مذہبی آزادی کے امریکی کمیشن نے اپنے بیان میں نئی دہلی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ دہلی میں ہونے والے تشدد اور مسلمانوں پر ہونے والے حملوں کو روکنے کے لیے پولیس کی جانب سے مداخلت نہ کرنے کی خبریں انتہائی پریشان کن ہیں۔ادھر امریکا ، فرانس اور روس نے بھارت کے دار الحکومت میں تشدد کے بعد اپنے شہریوں کے لیے سیکورٹی الرٹ جاری کیاہے۔نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے نے اپنے سیکورٹی ایڈوائزری میں بھارت میں موجود امریکی شہریوں سے کو ہدایت دی کہ وہ شمال مشرقی دہلی میں پرتشدد مظاہروں سے احتیاط برتیں اور جہاں بھی مظاہرے ہورہے ہیں ان تمام علاقوں میں جانے سے گریز کریں۔
بھارت میں ہلاکتیں38 ہوگئیں‘ گرفتاریوں کا حکم دینے والا جج تبدیل
القمر
