پیانگ یانگ (انٹرنیشنل ڈیسک) شمالی کوریا نے نئے تجربات کرتے ہوئے سمندر میں 2 بیلسٹک میزائل داغ دیے۔ جاپانی وزارت دفاع اور جنوبی کوریا کے عسکری حکام نے تصدیق کی ہے کہ دونوں میزائل نہ تو جاپان کی حدود میں گرے اور نہ ہی اس کے اقتصادی زون میں۔ جنوبی کوریا سے موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ میزائل درمیانے فاصلے تک اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے میزائل تھے، جنہوں نے گرنے سے قبل 240 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔ جنوبی کوریا کی فوج کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے بحیرۂ جاپان کی جانب 2 میزائل داغے۔ شمالی کوریا نے گزشتہ نومبر کے بعد پہلی بار یہ تجربات کیے۔ جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف نے پیر کے روز بتایا کہ دونوں پروجیکٹائل مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بج کر 37 منٹ پر مشرقی شہر وونسان کے نزدیک ایک مقام سے داغے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پروجیکٹائل تقریباً 240 کلومیٹر تک پرواز کر کے لگ بھگ 35 کلومیٹر بلند ہوئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جنوبی کوریا اور امریکا کی افواج مزید جائزہ لے رہی ہیں۔ جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کے میزائل تجربے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ شمالی کوریا نے گزشتہ سال مئی سے نومبر تک 13 بار پروجیکٹائل داغے تھے۔ گزشتہ سال کے اواخر میں شمالی کوریائی رہنما کم جونگ ان نے عندیہ دیا تھا کہ جوہری اور بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تجربات معطل کرنے کے وعدے پر نظر ثانی کا امکان ہے۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ بہت جلد ایک نیا اسٹرٹیجک ہتھیار دنیا کے سامنے لایا جائے گا۔ جائزہ کاروں کا کہنا ہے کہ تازہ ترین تجربہ ممکنہ طور پر ان کے سخت گیر موقف کے اظہار کی کوشش ہے اور شمالی کوریا ہتھیاروں کی بہتر بنائی گئی ٹیکنالوجی کی نمایش بھی چاہتا ہے۔ اس سب کا مقصد امریکا سے مراعات کا حصول ہے۔ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے خاتمے کے موضوع پر امریکا اور شمالی کوریا کے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ جائزہ کاروں نے اس امکان کا بھی اظہار کیا ہے کہ امریکا کی صدارتی انتخابی مہم کے دوران کم جونگ ان جزیرہ نما کوریا کی صورت حال کو اجاگر کرنے کی امید رکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی شمالی کوریا پر بیلسٹک میزائل کے تجربات پر پابندی عائد کر رکھی ہے، تاہم کم جونگ ان کسی قسم کی پابندی کو تسلیم کرتے نظر نہیں آرہے۔ امریکا اور سلامتی کونسل کا تازہ تجربے سے متعلق تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ 2018ء میں امریکی صدر ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سربراہ کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کے حوالے سے سنگاپور میں تاریخی ملاقات ہوئی تھی، جس کے بعد کم جونگ اور ٹرمپ 2019ء میں ویتنام میں بھی ملے، تاہم بغیر کسی معاہدے کے بات چیت کا سلسلہ ختم ہوگیا۔
شمالی کوریا: سربراہ مملکت کم جونگ اُن بڑے پیمانے پر منعقد کی گئیں توپ خانے کی مشقوں کا معاینہ کررہے ہیں
شمالی کوریا کا نیا تجرب� 2 بلیسٹک میزائل داغ دیئے
القمر
