اگر کسی کو مارچ کا مطالبہ پسند نہیں تو انہیں اپنی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے
خواجہ سرائوں کو بھی سیاست میں حصہ ملنا چاہئے، عورت مارچ آرگنائزنگ کمیٹی
کراچی (اسٹاف رپورٹر) عورت مارچ آرگنائزنگ کمیٹی کی رہنما شیما کرمانی سمیت دیگر نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 8 مارچ کو خواتین کے حقوق کے لیے 4 بجے فریئر ہال میں پُرامن عورت مارچ ہوگا، اگر کسی کو مارچ کے مطالبے پسند نہیں تو انہیں اپنی سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے، خواجہ سرائوں کو بھی سیاست میں حصہ ملنا چاہیے، خواتین کے حقوق کے لیے سب سے زیادہ قانون سازی سندھ میں ہوئی ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ جو قوانین بنے ہوئے ہیں اس پر عملدرآمد بھی کرایا جائے۔ اس موقع پر انیس ہارون نے کہاکہ ہم نے آج سے 40 سال پہلے جدوجہد شروع کی تھی میں شکر گزار ہوں کہ مرد اس عورت مارچ کو سپورٹ کر رہے ہیں، فخر ہے کہ نوجوان لڑکیاں اس جمہوری حق کے علم کو آگے بڑھا رہی ہیں۔ یہ مارچ مظلوموں کے حق کی آواز ہے، عورت کو آزادی دلانے کے لیے اس مارچ کو شروع کیا، تشدد سے پاک معاشرہ اور عورت کو گھر اور باہر ہر کام میں آزادی مانگتے ہیں۔ شہزادی خواجہ سرا نے کہاکہ زنا بالجبر کا قانون نافذ ہونا چاہیے، پانچ فیصد کوٹہ آج تک نہیں ملا خواجہ سرائوں کے لیے سندھ میں الگ جیل بنائی جانی چاہیے، پولیس اسٹیشن میں اینٹی ہراسمنٹ ڈیسک نہیں بنی جس میں خواجہ سرا کو ممبر رکھا جانا تھا۔

