نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) نئی دہلی اقلیتی کمیشن نے فسادات کو منظم سازش قرار دے دیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق کمیشن کے وفد نے شمال مشرقی دہلی کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد انکشاف کیا کہ سازش پر عمل کے لیے باہر سے بلوائیوں کو بلایا گیا۔ کمیشن کا اپنی رپورٹ میں کہنا تھا کہ 2روز تک فسادیوں کو پوری آزادی حاصل رہی اور پولیس کی مختصر سی تعداد کو تعینات کرکے خاموش تماشائی بنادیا گیا۔ کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کی قیادت میں کمیشن کے وفد نے متاثرہ علاقوں کا جائزہ لینے کے ساتھ شہریوں سے بات چیت بھی کی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فساد یک طرفہ تھا اور منظم سازش کے تحت اسے ہوا دی گئی۔ مقامی ہندوؤں نے بلوائیوں کو بھر پور ساتھ دیا اور مسلمانوں کی دکانوں اور مکانات کی نشاندہی کی۔ فسادات کے دوران چن چن کر مسلمانوں کی املاک کو ہدف بنایا گیا اور یہ سب مقامی افراد کی مدد کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہمارے پاس اس کا ثبوت ہے کہ 2 ہزار لوگ باہر سے دارالحکومت آئے۔ انہوں نے مسلمانوں کے اکثریتی علاقے شیو وہار میں سب سے زیادہ تباہی مچائی۔ فسادیوں نے 2اسکولوں پر قبضہ کرکے انہیں اپنا ہیڈ کوارٹر بنایا تھا۔ وہ باہر نکلتے اور مسلمانوں کی املاک تباہ کر تے اور وہیں آ جاتے۔ انہوں نے اسکول کی چھت پر ایک بہت بڑی غلیل نصب کی تھی، جس کی مدد سے وہ سڑک کے پار پیٹرول بم پھینکتے رہے۔ ڈاکٹر ظفر الاسلام کا کہنا تھا کہ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ متاثرہ علاقوں میں 24 اور 25 فروری کو پولیس کی تعداد انتہائی کم تھی۔ انہوں نے متاثرین کی کوئی مدد نہیں کی بلکہ بلوائیوں کو تباہی مچانے کی کھلی چھوٹ دی گئی۔ بلوائیوں کو مکانات نذر آتش کرنے اور دھماکے کرنے تک کی اجازت دی گئی۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 49 افراد ہلاک ہوئے، جب کہ ابھی بھی کئی لاشیں اسپتالوں میں پڑی ہیں اور لاپتا افراد کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔
نئی دہلی: فسادات کے دوران چھت سے محروم کیے گئے مسلمان خیمہ بستی میں رہنے پر مجبور ہیں
دہلی فسادات منظم سازش کے تحت کرائے گئے،کمیشن
القمر
