دمشق/ ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک) شام میں حزب اختلاف کے آخری اہم گڑھ صوبہ ادلب میں روسی فضائیہ کے تازہ حملے میں ایک بچی سمیت 16 شہری شہید اور 18 زخمی ہوگئے۔ یہ حملہ اس مقام پر کیا گیا، جہاں بے گھر شامی مہاجرین جمع تھے۔ شامی مبصر برائے انسانی حقوق کے مطابق روسی فضائیہ نے ادلب کے شہر معرۃ مصرین کے نواحی علاقے میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب بم باری کی گئی۔ اے ایف پی کے ایک رپورٹر نے بتایا کہ مقامی اسپتال میں لائی گئی لاشوں میں کچھ ایسی بھی تھیں، جو ثابت نہ ہونے کے باعث کمبل میں لپٹی ہوئی تھیں۔ حملے کے نتیجے میں ایک 2 منزلہ عمارت منہدم ہو گئی۔ یہ بے گھر افراد ایک پولٹری فارم میں پناہ لیے ہوئے تھے اور یہ فارم بھی حملے کی وجہ سے شدید متاثر ہوا۔ شامی مبصر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، کیوں کہ کئی افراد شدید زخمی حالت ہیں۔ روسی فضائیہ نے ادلب میں یہ تازہ کارروائی ایک ایسے وقت میں کی ہے، جب روسی اور ترک رہنماؤں نے ماسکو میں ایک ملاقات میں ادلب کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق تُرک صدر رجب طیب اردوان نے جمعرات کے روز ماسکو میں روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی۔ اس دوران روسی صدر نے ادلب میں ایک کارروائی کے دوران 34 تُرک فوجیوں کی ہلاکت پر تعزیت کی، جب کہ صدر اردوان نے ادلب میں جاری کشیدگی کی شدت میں کمی آنے کی امید ظاہر کی۔ دوسری جانب ادلب میں اسدی فوج کے خلاف تُڑک فوج کی کارروائی بھی جاری ہے۔ تُرک ذرائع ابلاغ کے مطابق تُرک وزارت دفاع نے جمعرات کے روز ایک بیان میں کہا کہ بہار کی ڈھال آپریشن میں 24 گھنٹوں کے دوران 184 اسدی فوجیوں کو ہلاک کردیا گیا ہے۔ وزارت دفاع کے مطابق آپریشن کے دوران رات بھر زمینی اور فضائی کاروائیاں کامیابی سے جاری رہیں۔ اس دوران 4 ٹینکوں، 5 توپوں، 3 اینٹی ٹینک ہتھیاروں، 8 فوجی گاڑیوں، 2 بھارتی مشین گنوں سے لیس گاڑیوں اور 2 بکتر بند گاڑیوں کو تباہ کر دیا گیا۔
ادلب ؍ ماسکو: شہری دفاع کا عملہ معرۃ مصرین میں بم باری سے تباہ ہونے والی عمارت کے ملبے سے لاشیں نکال کر لے جارہا ہے‘ تُرک صدر اردوان اپنے روسی ہم منصب پیوٹن سے ملاقات کررہے ہیں
ادلب میں بمباری ،16 شہری شہید،اردوان ،پیوٹن ملاقات
القمر
