نیویارک/لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی حکام نے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے بھائی اور بھتیجے سمیت 3شہزادوں کو بغاوت کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں حراست میں لے لیا۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ شاہ سلمان کے بھائی شہزادہ احمد بن عبدالعزیز اور ان کے بھتیجے شہزادہ محمد بن نایف اور شاہی خاندان کے اہم ترین فرد شہزادہ نواف بن نایف کو بغاوت کے الزام میں جمعے کے روز ان کی رہائش گاہوں سے سیاہ نقاب پوش شاہی محافظوں نے گرفتار کیا۔ امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس سے ریاست کے حقیقی حکمرانوں کی طاقت مزید مستحکم ہونے کا عندیہ ملتا ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان حراستوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی مخالفت کے آخری راستوں کو مسدود کردیا ہے۔امریکی اخبار نے بتایا کہ سعودی شاہی عدالت نے ماضی میں تخت کے ممکنہ دعویدار رہنے والے 2افراد پر شاہ اور ولی عہد کو ہٹانے کے لیے بغاوت کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام عائد کیا ہے اور انہیں تا عمر قید اور سزائے موت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اس کے علاوہ ایک اور امریکی اخبارنیویارک ٹائمز نے بھی حراست میں لینے کی رپورٹ دی جس میں بتایا گیا کہ شہزادہ محمد بن نایف کے چھوٹے بھائی کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔مذکورہ معاملے پر سعودی حکام سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے فوری طور پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔حالیہ حراستیں ولی عہد محمد بن سلمان کے کریک ڈاون کی تازہ کڑی ہیں جنہوں نے نمایاں مذہبی رہنماوں اور ایکٹیویسٹس کے ساتھ ساتھ شہزادوں اور کاروباری افراد کو حراست میں لے کر اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرلی ہے۔شہزادہ احمد بن عبدالعزیز کی عمر 70کے عشرے میں ہے جو سعودی صحافی جمال خاشقجی کے اسکینڈل کے بعد لندن سے واپس سعودی عرب آگئے تھے جسے ان کی جانب سے بادشاہت کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا تھا۔اکتوبر 2018ء میں لندن میں اپنی واپسی سے قبل وہ سعودی شاہی خاندان کے خلاف یمن کے تنازع پر ایک مظاہرے کے حوالے سے دیے گئے ایک بیان پر تنازع کا شکار ہوگئے تھے۔سوشل میڈیا پر اس بیان کی وڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اس سے خاندان کا کیا لینا دینا، وہ افراد ذمے دار ہیں، بادشاہ اور ولی عہد۔دوسری جانب شہزادہ محمد بن نائف سابق ولی عہد اور سابق وزیر داخلہ ہیں جنہیں موجودہ ولی عہد محمد بن سلمان نے عرب دنیا کی سب سے طاقتور بادشاہت کا جانشین بننے کے لیے نکال باہر کیا تھا۔اس حوالے سے اس وقت مغربی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ برطرف شہزادے کو گھر میں نظر بند کردیا گیا ہے ۔واضح رہے کہ 2017 ء میں شہزادہ محمد بن سلمان کے احکامات پر سعودی شاہی خاندان کے درجنوں ارکان، وزرا اور کاروباری شخصیات کو گرفتار کرکے انہیں ہوٹل میں نظر بند کردیا گیا تھا۔ سعودی حکومت کے مطابق ان شخصیات نے بدعنوانی کرکے اربوں ریال ہتھیائے تھے تاہم مغربی میڈیا کا کہنا ہے کہ ان شخصیات کو شہزادہ محمد سلمان سے وفادار رہنے کا حلف لینے کے بعد رہائی ملی تھی۔
بغاوت کا الزام‘ شاہ سلمان کے بھائی اور بھتیجے سمیت3شہزادے گرفتار
القمر
