English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بلوچستان کے وسائل بیچنے کا بیان صوبائی خود مختاری میں مداخلت ہے، اختر مینگل

القمر

اسلام آباد(نمائندہ جسارت) حکومتی اتحادی جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ اخترمینگل کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کا بلوچستان کے وسائل بیچ کر ملکی قرضہ اتارنے کا بیان صوبائی خود مختاری میں مداخلت کے مترداف ہے۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوںنے حکومت پر کڑی تنقید کی ۔ اخترمینگل نے کہا کہ وزیر اعظم کے بیان پر وزیر پارلیمانی امور وضاحت دیں۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کا بیان 18 ویں ترمیم کی کھلی
خلاف ورزی ہے، آپ نے بلوچستان کو دیا کیا ہے کہ ہمارے وسائل بیچ رہے ہیں، قدرتی گیس کے بعد اب دیگر وسائل پر بھی منصفانہ تقسیم نہیں نظر آرہی، اس وقت بھی بلوچستان کے 3 اضلاع کو بجلی ایران سے مل رہی ہے، 1972ء سے آرٹیکل 158 کی مسلسل خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ حکومتی اتحادی نے کہا کہ پہلے ہم سنتے تھے کہ مفتوحہ علاقے کی دولت کو مال غنیمت سمجھ کر لوٹ مار کی جاتی تھی، کیا بلوچستان کو مفتوحہ علاقہ تو نہیں سمجھ لیا گیا، سینڈنک میں 300 بلین سونے اور چاندی کے ذخائر بتائے گئے ہیں، اگر وہاں سے 100 ارب روپے آمدن ہورہی ہے تو صرف 2 ارب ڈالر بلوچستان کودیے جارہے ہیں، باقی سارا پیسہ وفاق یا پھر چین لے جائے گا تو بلوچستان کدھر گیا؟۔اخترمینگل کے بیان کے جواب میں وزیر مملکت پارلیمانی امورعلی محمد خان نے کہا کہ عمران خان کسی علاقے کے لیے بغض نہیں رکھتے ، وہ انصاف سے ملک کو چلائیں گے، عمران خان بلوچستان کے لوگوں کے حقوق اور صوبائی خود مختاری کے ساتھ کھڑے ہیں، چند کالی بھیڑوں کی وجہ سے سیاستدان بدنام ہوتے ہیں۔علاوہ ازیں نجی کارروائی کے دن بل پیش کرنے کے عمل کو روک کر وفاقی وزیرمراد سعید کو تقریر کے لیے فلور دینے پر اپوزیشن نے نشستوں سے کھڑے ہوکر شدید احتجاج کیا اور ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے ڈائس کا گھیراؤ کرلیا۔ اس دوران وزیرانسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری اور شاہ نوازرانجھا کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ اپوزیشن نے ڈپٹی اسپیکر پرجانبداری کا الزام عاید کرتے ہوئے تحریک استحقاق لانے کا عندیہ دے دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے