کابل(خبرایجنسیاں) افغان طالبان نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ امن معاہدہ ٹوٹنے کے قریب ہے۔ عرب خبر رساں ادارے کے مطابق افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے الزام عاید کیا ہے کہ امریکا اوراتحادی امن معاہدے کی خلاف ورزی کے مرتکب ہورہے ہیں ، طالبان کے زیرکنٹرول علاقوں پر ڈرون حملے کرکے عام شہریوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ افغان حکومت کو طالبان قیدیوں کی رہائی میں تاخیری حربے استعمال کررہی ہے اورناقابل دفاع مؤقف اپنا رہی ہے۔طالبان کا مؤقف ہے کہ انہوں نے افغان سیکورٹی فورسز کی پوسٹوں پر حملے بند کردیے تھے جب کہ دیگر عالمی فورسز اور افغان فورسز سمیت ان کی فوجی تنصیبات کو بھی نشانا نہیں بنایا۔ طالبان نے افغان حکومت اور امریکا کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہنے کی صورت میں حملوں کی دھمکی دے دی۔ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں سے نہ صرف معاہدے کو نقصان ہوگا بلکہ یہ عدم اعتماد کے ماحول کو جنم دیں گی جب کہ مجاہدین کو برابر کا جواب دینے اور لڑائی کو مزید بڑھانے پر مجبور کریں گی۔انہوںنے کہا کہ ہم سنجیدگی سے امریکا کو کہہ رہے ہیں کہ وہ معاہدے کی پاسداری کرے اور اپنے اتحادیوں کو بھی معاہدے کی مکمل پاسداری کے حوالے سے پابندکرے۔دوسری جانب افغانستان میں موجود امریکی افواج کے ترجمان سونی لیگٹ نے طالبان کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فوج نے معاہدے کے عسکری نکات کو برقرار رکھا ہے اور اس سلسلے میں طالبان کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکا اس بارے میں واضح ہے کہ معاہدے کے تحت وہ اپنی شراکت دار افغان سیکورٹی فورسز پر حملے کی صورت میں ان کا دفاع کریں گی،کرنل لیگٹ نے طالبان سے تشدد میں کمی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افغان عوام کی خواہش ہے کہ تشدد میں کمی ہو تاکہ افغان تنازع کے سیاسی تصفیے کی طرف پیش رفت کی جا سکے ۔
