English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کورونا وائرس سے حفاظت ,فیس ماسک،صفائی و احتیاط لازم ہے، نعیم صدیقی

دسمبر 2019 میں چین سے شروع ہونے والے کورونا وائرس سے اب تک دنیا کے دو سو سے زائد ممالک میں تیرہ لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں جب کہ وائرس کا شکار ہو کر مرنے والوں کی تعداد ستر ہزار سے زائد ہے۔کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کے بعد ماہرین صحت اور حکومتوں نے اپنے لوگوں کو فیس ماسک پہننے کی ہدایات بھی کیں اور کئی ممالک میں لوگ ان ہدایات پر عمل بھی کر رہے ہیں، تاہم بعض ممالک میں اب تک ایسا نہیں ہو پایا۔اگرچہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں فیس ماسک کی قلت ہے۔ امریکی کمپنیوں نے اپنے تمام بیرونی آرڈر منسوخ کر کے صرف امرکی شہریوں کیلئے فیس ماسک جمع کرنا شروع کردیے ہیںلیکن ابھی تک امریکا سمیت مغربی ممالک میں لو گ فیس ماسک کا استعمال نہیں کر رہے ہیںجسے ماہرین صحت بہت بڑی غلطی قرار دینے لگے ہیں۔
مریکا سمیت دیگر مغربی ممالک کی جانب سے کورونا وائرس کے پھیلا کے باوجود فیس ماسک نہ پہننا ایسا ہی ہے جیسے 100 سال قبل اسپینش فلو کے پھیلا ئوکے وقت ایشیائی ممالک کی جانب سے فیس ماسک کو اہمیت نہ دینا تھا۔ماہرین کے مطابق آج کے مغربی ممالک ایشیائی ممالک کی جانب سے 100 سال قبل کی گئی غلطی کو دہرا رہے ہیں جب کہ ایشیائی ممالک ایک صدی قبل کی گئی غلطی سے سیکھ کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ آج سے ٹھیک ایک صدی قبل 1918 میں جب دنیا میں اسپینش فلو کی وبا پھوٹ پڑی تو امریکی ریاست کیلی فورنیا کا شہر سان فرانسسکو وہ پہلا شہر بنا تھا جس کی مقامی حکومت نے بیماری سے بچائو کے لیے فیس ماسک پہننا لازمی تھا۔یہ وبا جنگ عظیم اول کے دنوں شروع ہوئی۔ دنیا بھر میں تقریبا 50 کروڑ افراد متاثر جب کہ 5 کروڑ افراد ہلاک ان میں بھی 10 لاکھ افرادکا تعلق امریکہ سے تھا۔
100 سال قبل سان فرانسسکو حکومت نے فیس ماسک نہ پہننے پر جرمانہ عائد کرنے کا قانون نافذ کیا تھاجس طرح آج کورونا وائرس سے امریکی شہر نیویارک سب سے زیادہ متاثر ہے، اسی طرح 1918 میں اسپینش فلو نے سان فرانسسکو متاثر ہوا تھا اور وہاں کی انتظامیہ نے وبا سے نمٹنے کے لیے سخت لائحہ عمل تیار کرتے ہوئے فیس ماسک پہننا لازمی قرار دیا تھا۔امریکی ریاست سان فرانسسکو کی حکومت نے 1918 میں اسپینش فلو کے وقت فیس ماسک نہ پہننے والے شخص پر 5 سے 100 ڈالر تک جرمانہ اور 10 دن تک قید یا دونوں سزاں کا اطلاق کر رکھا تھا، جس وجہ سے لوگوں نے فیس ماسک پہننا شروع کیا جس کے نتیجے میں اسپینش فلو کے پھیلا میں واضح طور پر کمی دیکھی گئی۔ سان فرانسسکو کی حکومت کی جانب سے فیس ماسک پہننے کو لازمی قرار دیے جانے کے فیصلے کو نہ صرف امریکا کی تمام ریاستوں نے اپنایا بلکہ یورپ کے کئی ممالک نے بھی اس عمل کیا۔ فرانس کے شہر پیرس کی انتظامیہ نے بھی فیس ماسک پہننا لازمی قرار دیا تھا۔اس طرح فیس ماسک پہننے کا آغاز امریکا سے یورپ تک پھیل گیا۔ ایک صدی قبل حکومتوں کی جانب سے فیس ماسک پہننے کو لازمی قرار دیے جانے میں عیسائیوں چرچ اورو فلاحی تنظمیوں نے بھی انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز کا ساتھ دیا ۔بہت بڑی تعداد میں فیس ماسک تیار کرکے دیے گئے تاکہ اسپینش فلو جیسی وبا کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اس وقت جہاں عام لوگوں کو ماسک پہننے کے لیے پابند کیا گیاتھا، وہیں پولیس، فوج، طبی رضاکاروں، بحری جہاز کے عملے سمیت سرکاری ملازمین و افسران بھی فیس ماسک استعمال کرنے کے پابند تھے۔
سو سال پہلے کے حالات کا موازنہ آج کورونا وائرس کی صورتحال سے کیا جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں یہ شعور زیادہ پیداہو رہا ہے اسی طرح دیگر ایشیائی اور افریقی ممالک بھی اس پر عمل کر رہے ہیں لیکن مغربی ممالک کے ماہرین اور حکمران فیس ماسک پہننے یا نہ پہننے پر مختلف رائے رکھتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہس وقت یورپی ممالک اور امریکہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں وہان اموات زیادیہ ہو رہی ہیں۔اٹلی اور سپین کی مثال کے بعد امریکہ اور برطانیہ کی صورتحال اچھی نہیں ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ کیا فیس ماسک نئے کورونا وائرس سے بچا سکتا ہے؟ اگر حالیہ دور میں دیکھا جائے تو جہاں لوگ فیس ماسک پہن رہے ہیں وہاں وائرس کا پھیلائو بھی کم ہے۔
کورونا وائرس کے شدید خطرے کو دیکھتے ہوئے مغربی ممالک کی نسبت ایشیائی ممالک میں فیس ماسک زیادہ استعمال ہو رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ایشیائی ممالک کو اسپینش فلو کے بعد بھی کئی بیماریوں اور وبائوں کا سامنا رہا ہے اور یہاں تک کہ16 سال قبل 2003میں ایشیا سارس وائرس کا شکار ہواتھا اور حفاظت کے طور پر فیس ماسک استعمال کیا گیا۔آج بھی مغربی ممالک میں امریکا سے لے کر برطانیہ تک فیس ماسک کا استعمال کم دکھائی دیتا ہے۔تاہم اب کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلائو کے بعد وہاں لوگوں کو فیس ماسک کی اہمیت کا بتایا جا رہا ہے تاہم ایک ماہ پہلے ماہرین کا کہنا تھا کہ صحت مند افراد کو ماسک پہننے کی ضرورت نہیںلیکن اب امریکا کے ماہرین صحت بھی فیس ماسک پہننے پر زور دے رہے ہیں۔ اگر سنجیدہ طرز عمل اور بہتر تدابیر اختیار کی جائیں توکورونا وائرس سے حفاظت ممکن ہے،صفائی اور احتیاط لازم ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ امریکی صدر ٹرمپ نے بھی اپنی تقریر کے دوران اشاروں میںبتایا کہ سکارف ایک بہترین ڈھال ہے انھوں نے سکارف استعمال کرنے کو پسند کیا ہے۔ہم یہ کہنے میں حق بجناب ہیں کہ اسلام صفائی کا حکم دیتا ہے۔اسی لیے صفائی نصف ایمان ہے۔آلود ہ اور تعفن زدہ ماحول ہو یا بیماری کا خدشہ ہم لوگ اپنے منہ اور ناک کو ڈھانپ لیتے ہیں۔اس لیے کورونا وائرس جیسے موذی اور دکھائی نہ دینے والی خطرناک ترین وبا سے محفوظ رہنے کیلئے لازم ہے کہ صفائی کا ہمیشہ خیال رکھا جائے۔چہرے کیلئے ماسک استعمال کیا جائے کہ اللہ تعالی پر یقین کامل اور دعا کے ساتھ ساتھ تدبیر بھی بہت ضروری ہے اور ہر اچھی بات پر عمل کرنا اور دوسروں کی اس کی ترغیب دینا انسانیت کی فلاح کا اہم ترین فریضہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے