سجاول (نمائندہ جسارت) ضلع سجاول کے عوامی نمائندوں اور ضلعی انتظامیہ غریبوں کو راشن کی تقسیم پر ڈی سی آفس میں تنازع۔ عوامی حکومت کی طرف سے لاک ڈائون کے باعث غریبوں کو امداد کے لیے ضلعی سجاول انتظامیہ نے سجاول شہر کے ہر وارڈ میں تقسیم کے لیے 10 یا 12 پارسل دینے پر ضلع سجاول کے ڈپٹی کمشنر اور عوامی نمائندے لڑنے لگے، عوامی نمائندوں کا ڈپٹی کمشنر کی میٹنگ میں احتجاج۔ 400، 500 مستحق غریبوں کے لیے فقط 10 یا 12 پارسل اور ایم این اور ایم پی اے کے کوٹے میں 120 راشن بیگ غریبوں سے مذاق اور عوامی نمائندوں کی مستقبل میں نمائندگی میں پڑگئی ہے۔ کورونا وائرس کے باعث حکومت کی طرف سے ملک میں لاک ڈائون کو سترہ دن گزر گئے مگر ابھی تک ضلع کی بے حس اور ناکام انتظامیہ ڈپٹی کمشنر سجاول اور عوامی نمائندوں کے مابین مستحقین میں راشن کی تقسیم کے سلسلے میں محاذ آرائی کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں اور تا حال غریب اور بے یارو مددگار لوگ بھوک اور فاقہ کشی کا شکار ہیں۔ اس سلسلے میں سجاول کے ایک کونسلر نے صحافیوں کو بتایا کہ ڈپٹی کمشنر سجاول محمد اسماعیل میمن کو حکومت کی جانب سے 2 ارب روپے سجاول ضلع میں راشن کی تقسیم کے لائے موصول ہوگئے ہیں مگر ڈپٹی کمشنر جوکہ ضلع سجاول کے مقامی اور ناکام ڈپٹی کمشنر رہے ہیں، ابھی تک سجاول میں راشن کی تقسیم کے سلسلے میں کوئی پلاننگ نہیں کرسکے ہیں۔ انہوں نے مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ سجاول شہر میں 11 وارڈ ہیں اور ہر وارڈ کے عوامی نمائندے کونسلروں کو ہر وارڈ میں سے کم سے کم 400 سے 500 درخواستیں موصول ہوئی ہیں اور ڈپٹی کمشنر نے تمام کونسلروں کو آفس میں بلاکر میٹنگ کی اور کہا کہ حکومت نے فی کونسلر کے لیے ہر وارڈ کے لیے لیے 10۔ 10 اور فی ایم این اے اور ایم پی اے کے لیے 12 پارسل تقسیم کے لیے بھیجتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بات پر عوامی نمائندوں اور ڈپٹی کمشنر کے مابین میٹنگ میں تنازعہ کے باعث کونسلرز نے راشن کے تھیلے لینے سے انکار کرتے ہوئے میٹنگ سے بائیکاٹ کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 400 یا 500 مستحقین میں سے 10 یا 12 پارسل تقسیم کے لیے لے جائیں گے تو مستحقین کے خیال میں سرکار سے ملنے والا راشن ہم کونسلروں نے ہڑپ کرلیا ہے۔ لہٰذا ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سجاول میں راشن کی تقسیم کے لیے صحیح پلاننگ کی جائے اور جلد سے جلد 17 دن سے فاقہ کشی کے شکار غریب لوگوں کے گھر راشن پہنچانے کا انتظام کیا جائے۔
سجاول،راشن کی تقسیم پرانتظامیہ اورعوامی نمائندوں میں شدید تنازع
القمر
