ڈھاکا (انٹرنیشنل ڈیسک) بنگلادیش کے بانی شیخ مجیب الرحمن کے قتل میں ملوث سابق فوجی افسر کیپٹن عبدالمجید کو 45 سال بعد گرفتار کرلیا گیا۔ غیرملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق شیخ مجیب الرحمن کو 15 اگست 1975ء کو فوجی بغاوت کے دوران قتل کیا گیا تھا، جس کے بعد ان کے قتل کے الزام میں کئی فوجیوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ عدالتی کارروائی کے دوران ہی عبدالمجید مبینہ طور پر بھارت فرار ہوگیا تھا، تاہم 1998ء میں مقامی عدالت نے عبدالمجید سمیت ایک درجن فوجی افسروں کو شیخ مجیب کے قتل کے الزام میں پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ بنگلادیشی سپریم کورٹ نے 2009ء میں عدالتی فیصلہ برقرار رکھا تھا، جس کے چند ماہ بعد ہی دیگر 5 ملزمان کو پھانسی دے دی گئی تھی۔ حکام کے مطابق قتل کی کارروائی میں شامل ہونے کا اعتراف کرنے والے 5 فوجی افسران کو 2010ء میں پھانسی دے دی گئی تھی، جب کہ ایک شخص زمبابوبے میں طبعی موت مرا۔ اس کے علاوہ عبدالمجید سمیت دیگر 6 افراد میں سے 2 کے بارے میں معلوم ہوسکا کہ وہ کینیڈا اور امریکا میں مقیم ہیں۔ حکام کے مطابق شیخ مجیب الرحمن کے قتل میں ملوث فوجیوں کو بعد میں ترقی دے کر دنیا بھر میں قائم بنگلادیشی مشنوں میں تعینات کیاگیا تھا۔ بنگلادیشی پراسیکیوٹر نے میڈیا کو بتایا کہ عبدالمجید گزشتہ ماہ واپس بنگلادیش پہنچا تھا، جسے منگل کے روز گرفتار کیا گیا، جب کہ پولیس انسپکٹر ظہور الاسلام کے مطابق انسداد دہشت گردی پولیس نے خفیہ اطلاع پر مفرور ملزم کو ڈھاکا شہر میں ایک رکشے میں سفر کے دوران گرفتار کیا۔ تاہم اس حوالے سے واضح نہیں کہ گرفتار ملزم کیسے اور کب بنگلادیش واپس آیا۔ بنگلادیش کے وزیر انصاف انیس الحق کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم کی پھانسی کی سزا پر عمل کی تیاریاں شروع کردی ہیں اور سابق فوجی افسر کے پاس سزا کے خلاف اپیل کو کوئی حق نہیں ہے، تاہم وہ صرف صدر مملکت سے رحم کی اپیل کا حق رکھتا ہے۔ دوسری جانب بنگلادیشی صدر عبدالحامد اس وقت برسراقتدار شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی شیخ حسینہ واجد کے قریب سمجھے جاتے ہیں، جس کے باعث ملزم کی اپیل مسترد ہونے کا قوی امکان ہے، جب کہ ملزم کی سزا پرآیندہ چند ہفتوں میں عمل ہونے کی امید کی جارہی ہے۔ بنگلادیش میں شیخ مجیب کی پیدایش کا صد سالہ جشن بھی منایا جارہا ہے اور ایسے میں وزیر داخلہ نے ملزم کی گرفتاری کو صد سالہ جشن کا بہترین تحفہ قرار دیا ہے۔
بنگلادیش ،شیخ مجیب کا قاتل 45 سال بعد گرفتار
القمر
