مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کے رہنما یحییٰ سنوار کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے معاہدے پر لچک دکھانے کے اعلان کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ حماس کے ساتھ بات چیت کے لیے ثالثوں کے ساتھ فوری مذاکرات شروع کریں۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں جنگی قیدیوں کی رہائی کے لیے ثالثوں کے ساتھ فوری بات چیت شروع کریں، تاکہ غزہ میں قید کیے گئے اسرائیلیوں کو رہا کیا جا سکے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے محکمہ امور اسیران و گمشدگان کے رابطہ کار یارون بلوم اور ان کے عملے کو ہدایت کی ہے کہ وہ نیشنل سیکورٹی ادارے کے ساتھ مل کر غزہ کی پٹی میں قید اسرائیلیوں کی رہائی کے لیے ثالثوں کے ساتھ بات چیت شروع کریں۔ خیال رہے کہ حال ہی میں اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے غزہ میں صدر یحییٰ سنوار نے اسرائیل کو قیدیوں کے تبادلے کی ایک نئی پیشکش کی تھی، جس میں اسرائیل سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے جنگی قیدیوں کی رہائی کے بدلے میں اسرائیلی جیلوں میں قید بیمار اور عمر رسیدہ فلسطینیوں کی رہائی کا اعلان کرے۔ حماس رہنما نے یہ اقدام انسانی بنیادوں پر کیا ہے اور اس میں کسی مخصوص جماعت یا گروپ کے اسیران کی بات نہیں کی گئی، بلکہ تمام بیمار اور عمر رسیدہ قیدیوں کو شامل کیا گیا ہے۔ حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یحییٰ سنوار کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے لیے جو فارمولہ پیش کیا گیا ہے، اس پرجماعت کی پوری قیادت کا اتفاق ہے۔
حماس اور اسرائیل قیدیوں کے تبادلے پر راضی
القمر
