جھڈو (نمائندہ جسارت) کورونا ایمرجنسی میں لاک ڈائون سے متاثرہ افراد میں سرکاری امدادکی تقسیم کے عمل کو اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے دو کونسلرز نے غیر منصفانہ اور جیالا نوازی قرار دیتے ہوئے اعتراضات اٹھا دیے ہیں اور کہا ہے کہ سرکاری امداد کی تقسیم کا عمل جعلسازی پر مبنی ہے، جس میں حقیقی متاثرین کے بجائے غیر مستحق لوگوں میں امداد تقسیم کی جارہی ہے۔ مسلم لیگ فنکشنل سے تعلق رکھنے والے حاجی فضل میمن اور ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے جاوید واحد نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جھڈو میں امدادی سامان کی تقسیم کے عمل کے دوران انتظامیہ نے طے شدہ طریقے کی دھجیاں اڑا دی ہیں، کمیٹیوں میں نہ تو این جی اوز کے نمائندوں کو رکھا گیا ہے اور نہ ہی دیگر ضروری ممبران کو، بلکہ وارڈز کے منتخب نمائندوں کو بہت بری طرح سے نظر انداز کرتے ہوئے حکومتی پارٹی کے افراد کو فوکل پرسن مقررکرکے من پسند افراد کو نوازا گیا ہے۔ امدادی سامان بعض منظور نظر افراد کو دیا گیا، جنہوں نے اپنے گھروں پر جاکر اسے تقسیم کیا۔ کونسلرز نے کہا کہ فہرستیں بناتے وقت انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا جو امدادی سامان دیا جارہا ہے وہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔ اوپر سے ایک مخصوص پارٹی کے غیر معروف لوگوں کو ہر وارڈ میں فوکل پرسن نامزد کرکے غیر مستحق افراد میں امدادی سامان تقسیم کیا جارہا ہے جبکہ ہمارے گھروں کے باہر مستحق لوگوں کی لائن لگی ہوئی ہے جنہیں جواب دینا مشکل ہوگیا ہے۔ حکومتی امداد کی غیر منصفانہ تقسیم سے عاجز آکر ہم نے اپنی جیب سے مستحقین اور ضرورت مندوں میں سامان تقسیم کرنا شروع کردیا ہے اور ساتھ ساتھ مالی مدد بھی کررہے ہیں۔ انہوں نے ریونیو کے سرکاری افسران کو بھی متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ خدا کا خوف کریں اور سیاسی دبائو کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ضرورت مندوں میں بلا تفریق اور طے شدہ طریقہ کار کے مطابق امدادی سامان کی تقسیم کے عمل کو یقینی بنائیں۔ دوسری جانب سرکاری امدادی سامان نہ ملنے کیخلاف وارڈ نمبر 11 کے باشندوں نے احتجاج کیا۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- ’پہلے ثبوت دکھائیے‘، عمران خان نے ممبئی پولیس کی رپورٹ پر اٹھائے سوال
- بابا صدیقی قتل معاملہ: ’ممبئی پولیس کارروائی نہیں، صرف نمائش کر رہی‘، بابا صدیقی کی اہلیہ شہزین کا سنگین الزام
- ’6 ریاستوں میں 10 کروڑ ووٹرس، ایس آئی آر میں صرف 1600 غیر ملکی ملے، تو لاکھوں نام کیوں حذف کیے گئے؟‘ کانگریس کا سوال
- پین کارڈ معاملہ: اعظم خان اور عبداللہ اعظم کو الہ آباد ہائی کورٹ سے ضمانت، سزا معطل
- چندہ ’شری رام‘ کے نام پر آیا تھا، حساب بھی دینا ہوگا اور جوابدہی بھی طے کرنی ہوگی، خاموشی نہیں جواب چاہیے: جے رام رمیش