جب سے پاکستان میں کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈ ائون کا سلسلہ شروع ہوا ہے اور تعلیمی اداروں کو غیر معین مدت کیلئے بند کر دیا گیا ہے اس کے بعد سے اب تک جہاں پاکستان کا ہر طبقے کا ہر ایک فرد شدید پریشانی اور مایوسی کا شکار ہے۔بڑوں کی طرح ہمارے بچے بھی اس قید جیسے کیفیت کا شکار ہو کر مختلف مسائل سے دوچار ہو گئے ہیں۔کم عمر بچے جن کے سکول بند ہو گئے ہیں۔ وہ گھر میں مختلف مسائل سے دوچار ہیںوالدین بھی پریشانی کا شکار ہیں کہ کیا کیا جائے۔گھر کے سب افراد کی مصروفیات سمٹ کر گھروں کے اندر تک ہی محدود ہو گئی ہیں۔یہ صورتحال پورے ملک میں ساری قوم کو درپیش ہے ۔دیکھنا یہ ہے کہ لاک ڈائون کے باعث گھروں میں قید ہو کر رہ جانے والے والدین اپنے معصوم بچوں کو کس طرح مطمئن کر سکتے ہیں۔
اکثر بچے اپنی والدہ سے کہتے ہیں ماما ہم گھر میں کیوں بند ہیں؟ ہمیں باہر جانے دیں ۔ کوئی بچہ اپنی ماںسے کہتا ہے کہ امی کیا ہو گیا ہے کہ بابا مجھے پارک ں نہیں لے جارہے؟ کب سے کہہ رہا ہوں۔کسی بچے کی اپنے امی سے فرمائش ہوتی ہے کہ مجھے اپنے دوستوں کے پاس جانے دیں گے آج بہت ا داس ہو گیا ہوں؟’بعض ضدی بچے تو زور زور سے چلانے کے انداز میں کہتے ہیں کہ ‘مجھے پلے لینڈ جانا ہے بس، لے جائیں نا کیوں نہیں لے جاتے۔ گھر میں بند کیوں کردیا ہے؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کے جوابات اگرچہ والدین اور گھر کے بڑوں کو تو خوب معلوم ہیں لیکن بچوں کو اس کا ادراک نہیں ہو سکتا کہ وہ ابھی بہت چھوٹے ہیں۔
کورونا وائرس کی وبا کا اگر ان کو بتایا جائے تو وہ اور بھی پریشان و کنفیوژ ہو جائیں گے۔لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ نہایت توجہ نرمی اور پیار و محبت کے ساتھ بچوں کو ان کے ہر سوال کا جواب دیا جائے تاکہ انھیں ان کی اپنی سوچ کے مطابق بات سمجھنے میں آسانی ہو۔اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ والدین گھر میں موجود بچوں کی تربیت کیسے کریں؟ بچوں کا پریشان اور خوفزدہ ہونا فطری ہے، گھر میں بند رہنے کے ساتھ ساتھ ٹی وی اور موبائل سے مسلسل معلومات کا بہائو اس میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔اپنے بڑی عمر کے بچوں کے ساتھ بڑوں کی طرح رویہ رکھیں اور کورونا کے طبی اثرات پر بات کریں۔بچے جب بھی اپنی پریشانی اور خدشات کا ذکر کریں، انہیں غور سے سنیں اور جواب دیں۔
بچوں کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ بات کریں، یوں آپ انہیں یقین دہانی کراتے ہیں کہ آپ ان کے خدشات اور احساسات کو سنبھال سکتے ہیں۔مثبت اقدامات پر رہنمائی دیں جیسے ہاتھ دھونا، باہر لوگوں سے ہاتھ ملانے سے گریز اور دور سے سلام کرنا، اگر بہت عرصے گھر پر رہنا ہے تو ان سے کھانے پینے اور ان کی ضروریات کی فہرست بنانے کا کہیں۔
غیر مستند معلومات کے حوالے سے محتاط رہنے کا کہتے رہیں اور سائنسی اور مستند ذرائع سے معلومات حاصل کرنے پر رہنمائی دیں۔
تعلیمی اداروں میں موجودہ تعطیلات کے دوران تعلیم کا سلسلہ کس طرح جاری رکھا جا سکتا ہے کہ بچوںکا تعلیمی نقصان نہ ہو؟ اس کے لئے والدین کوشش کریں کہ انھیں ہوم ورک اور خود سے تمام مضامین کی عادت ڈالیں اور گھر میں ہی مطالعہ کے اوقات مقرر کر دیے جائیں تاکہ بچے سارا دن گھر میں فارغ رہنے یا پریشان ہو کر اپنی فرمائشیں اور معصومانہ سوالات کرنے کی بجائے اپنی پڑھائی میں مشغول ہو جائیں۔اس سلسلے مین یاد رکھیں کہ بچوں کی پڑھائی کا کام کبھی بھی کل پر نہیں ڈالنا، انھیں نہ صرف پڑھنا ہے بلکہ لکھنا بھی ہے ۔چاہے بچے لڑ جھگڑ رہے ہوں یا آپ کو بہت ہی ضروری کام آج ہی مکمل کر کے آفس بھیجنا ہے۔ سبق کے لیے آج اور ابھی کی نیت اور ارادہ کریں تو یہ بالکل ممکن ہے کہ بچے آپ کی بات پر توجہ دیں گے اور ان کا دھیان فضول سوچوں اور سوالات کی طرف جانے کی بجائے اپنی تعلیم اور حقائق جاننیتک محدود رہے گا۔. کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی تعطیلات کے نفسیاتی مسائل سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم سب لوگ جوگھر کے ا فراد ہیں لازم ہے کہ ایک دوسرے کی ہربات توجہ سے سنیں اور خیال رکھیں اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ بچوں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔ والدین پر لازم ہے کہ وہ ان کو بتائیں اس وقت باہر جانا اور لوگوں سے پہلے کی طرح ملنا ہماری صحت کیلئے بہت ظطرناک ہے۔صرف ایک مہینے کی بات ہے اس کے بعد سب کچھ بالکل ٹھیک ہو جائے گا اور زندگی بہت ہی والدین کو چاہئے کہ وہ خود بھی ماسک پہنیں اور بچوں کو بھی اس کی عادت ڈالیں اور اگر بچے سوال کریں تو ان کو آسان الفاظ میں سمجھائیں یقین کیجئے گا بچے بڑوں سے زیادی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر راضی ہوں گے لیکن ضروری ہے کہ والدین خود بھی ان احتیاط و ہدایات پر عمل درآمد کریںپرسکون اور بیماریوںکے خطرے سے محفوظ ہو جائے گی۔موجودہ وقت احتیاط کا ہے اور ہم سب نے اس پر عمل پیرا ہونا ہے۔
کورونا وائرس سےلاک ڈائون تعلیمی ادارے بند،بچےپریشان والدین مسائل سے دوچار,نعیم صدیقی
القمر
