سرینگر )ساوتھ ایشین وائر(مقبوضہ کشمیر میں تفتیشی ایجنسیوں نے کہا ہے کہ علاقے میں جے کے فائٹرزنامی ایک نئی تنظیم کے وجود کا انکشاف ہوا ہے۔جو کالعدم لشکر طیبہ کے ساتھ اپنے مشتبہ روابط کی بنا پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظر میں آئی ہے۔ ایجنسیوں نے کہا ہے کہ اس تنظیم کے پانچ مبینہ ارکان 5 اپریل کو جموں و کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں تصادم کے دوران سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے شہید ہوگئے تھے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق بھارتی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ یہ تنظیم تحریک لبیک کا ایک ونگ ہے۔ مالیاتی تفتیشی ایجنسیاں اس کوشش میں ہیں کہ اس میں ملوث تمام افراد کی شناخت کے لئے اس نئی تنظیم کو فنڈز کی فراہمی کے ذرائع کا پتہ لگاسکیں۔
5اپریل کو اس تصاد م میں شہید ہونے والوں میں سے تین سجاد احمد ، عادل حسین اور عمر نذیر کا تعلق مقبوضہ کشمیر سے تھا ۔ 23 مارچ کو جموں وکشمیر پولیس نے اسی تنظیم کے چار مبینہ ارکان شفقت علی ، احتشام فاروق ، نثار احمد اور مصیب حسن کو گرفتار کیا تھا اور ان سے اسلحہ بھی برآمد کیا۔
ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر میں کل 242 مجاہدین سرگرم ہیں ۔ ایجنسیوں کے مطابق ان میں سے 110 ، لشکرطیبہ ، 59 جیش محمد سے اور باقی حزب المجاہدین سے ہیں۔
مقبوضہ کشمیر میں جے کے فائٹرزنامی نئی تنظیم کا آغاز،بھارتی ایجنسیاں
القمر
