اسلام آباد(آن لائن+اے پی پی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ لاک ڈائون سے ملکی معیشت کو بہت نقصان ہوا، اثرات بہت دیر تک رہیں گے۔جمعہ کو نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ شروع میں ایک دم فیصلے ہوئے اور ایک صوبہ مکمل لاک ڈاؤن کی طرف چلاگیا جس سے میں متفق نہیں تھا کیوں کہ 22 کروڑ افراد کو لاک ڈاؤن کرنے کی کوشش ناممکن چیز ہے، یورپ اور امریکا سے یہاں کے حالات مختلف ہیں۔عمران خان نے کہا کہ 26 کیسز آنے پر لاک ڈاؤن کر دیا گیا ،کسی کا انتقال بھی نہیں ہوا تھا، جیسے جیسے کورونا کاڈیٹا آتا رہتا اس کے مطابق چلتے رہتے لیکن ایک دم لاک ڈاؤن سے ملک میں غربت اوربے روزگاری میں اضافہ ہوگیا م، دیہاڑی دار تنگ ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ حالات مزیدبگڑیں گے جس سے نمٹنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں، بہتر حکمت عملی سے کورونا کی صورتحال سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہو ں نے کہا کہہمیں اسپتالوں پر جتنا خرچ کرنا چاہیے تھا، اتنا نہیں کیا،صحت کے شعبے پر توجہ نہیں دی گئی، کیا ایٹمی ملک وینٹی لیٹر، کٹس اور ماسک تیار نہیں کرسکتا ؟ لیکن ہمیں ہرچیز باہر سے منگوانے کی عادت پڑی ہوئی ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی صورتحال کے پیش نظر امریکا نے 2200 اور جاپان نے ایک ہزار ارب ڈالر کا پیکج جبکہ پاکستان نے 8 ارب ڈالرکا پیکج دیا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ14 روز میں 144ارب روپے ایک کروڑ 20 لاکھ افراد میں تقسیم کرنے ہیں۔ پیسے کی تقسیم میں کوئی سفارش کوئی سیاسی وابستگی نہیں چلتی، ہم سب سے مستحق لوگوں کو پہلے دے رہے ہیں۔علاوہ ازیں وزیراعظم نے پشاور میں حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کا دورہ کیا۔ وفاقی وزیر اسد عمر، وزیر مملکت شہریار آفریدی، معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر، گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان، وزیراعلیٰ محمود خان اور صوبائی وزیر صحت بھی موجود تھے۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے کورونا وبا کے پیش نظر صوبائی حکومت کے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیراعظم نے گورنر خیبرپختونخوا، وزیراعلیٰ اور متعلقہ وزرا کو صوبے کے متاثرہ علاقوں کا خود دورہ کرنے اور سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔بعد ازاںڈاکٹروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کے خلاف ہراول دستہ کے طور پر کام کرنے والے ڈاکٹرز اور طبی عملہ کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے، پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
لاک ڈاؤن سے معیشت کو شدید نقصان پہنچا ،اثرات بہت دیر تک رہیں گے ،وزیراعظم
القمر
