وطن عز یز کی مو جو دہ گھمبیر صو رتحا ل کو رونا و ا ئر س کی وبا ء اور لا ک ڈا ئو ن کی و جہ سے گھمبیر تر ہو تی جا رہی ہے۔ حب الو طنی اورایمان کا تقا ضا یہ ہے کہ ہم سب تد بیر اور تو کل علی اللہ کو کا م میں لا تے ہو ئے صو رتحا ل کو بہتر کر نے میں اپنا کر دار ادا کر یں۔ واویلا کر نے اور دو سر و ں کو مو ر دِالز ا م ٹھہر انے سے مسا ئل حل نہیں ہو ا کر تے ۔
بحیثیت ذمہ دار ی شہر ی اور بزنس مین میر ے لئے بھی یہ صو رتحا ل انتہا ئی پر یشا ن کن ہے۔ غو ر و خو ض اور تفکر کے بعد میں چند گز ارشا ت پیش کر رہا ہو ں۔ اگر ان پر عمل در آمد کیا جا ئے تو یہ تجا و یز ملک و قو م کے بہتر ین مفا د میں ہو ں گی (انشا ء اللہ) ۔کو رو نا صر ف ملکی نہیں بلکہ آ ج ایک بین الا قو امی مسئلہ بن چکا ہے ۔ جس سے دنیا بھر کی معشیت ہی نہیں بلکہ انسا نی صحت کو بھی سنگین خطر ات لاحق ہیں ۔ لیکن اس کے سا تھ سا تھ یہ بحر ان ہمیں غو ر و فکر کی د عو ت بھی دے رہا ہے۔
اپنے مو جو دہ طر زِ زند گی پر نظرثا نی کرنے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ہما ر ے مو جو دہ نظا م ا لا و قا ت کو اصلا ح کی شد ید ضر ور ت ہے۔ میر ے ذاتی
مشا ہد ے کے مطا بق حکو مت کا کا رو با ر ی سر گر میو ں کو صبح آ ٹھ سے رات آ ٹھ بجے تک محد ود کر نے کا اقدا م ایک کا میا ب تجر بہ ثا بت ہو ا ۔اس سے نہ صر ف بجلی کی بچت ہو ئی بلکہ ہما ر ی ذاتی صحت اور خا ند انی زند گی پر بھی اس کے مثبت اثر ات مر تب ہو ئے ۔ اگر سا ل بھر ملک میں یہی رو ٹین رہے تو اس طر ز عمل سے ان گنت فو ائد حا صل کیے جا سکتے ہیں ( اگر چہ یہ ایک مشکل کا م ہے لیکن نا ممکن نہیں)۔ پا کستا ن کی مو جو دہ صو رتحا ل میں بجلی کا بحر ان ، صنعتو ں اور بڑ ے
منصوبو ں کے لئے بجلی کی صیحح تقسیم، عوامی ضر ور ت پو ر ی کر نے کے لئے سا لا نہ ار بو ں رو پے کی اضا فی اخرا جا ت قو می مسا ئل میں سر فہر ست ہیں۔
ترقی یا فتہ اقو ام کا جا ئز ہ لیا جا ئے تو معلو م یہ ہو تا ہے کہ وہ سو ر ج کی رو شنی سے استفاد ہ حا صل کر تی ہیں۔ جبکہ ہما ر ے ملک میں سو رج طلو ع ہو نے کے 5یا 6 گھنٹے بعد کارو با ر شر وع ہو تا ہے ۔ جوسو رج غر وب ہو نے کے 7,8 گھنٹے بعد تک جار ی رہتا ہے ۔ دنیا میں چند عر ب مما لک کے علا و ہ کو ئی ملک بھی شمسی تو انا ئی کو اس طرح ضا ئع نہیں کر تا ۔ امر یکا ، یو ر پ ، چین، جا پا ن، جنو بی، افریقہ اور آ سٹر یلیا سمیت دیگر مما لک میں با زار رات 8 بجے بند کر دئیے جاتے ہیں جبکہ ہما ر ے ہا ں
معا ملہ اس کے بر عکس ہے۔ یہا ں رات کو کا رو با ر عر و ج پر ہو تا ہے ۔ سما جی اور سیا سی سر گر میا ں رات گئے تک جار ی رہتی ہیں۔ شا د ی ہا لز اور شا پنگ ما لز رات دیر تک کھلے رہتے ہیں حا لا نکہ آ ج سے 25 سا ل پہلے رات 9 بجے کے بعد کو ئی ہو ٹل یا کا رو با ی مر کز کھلا نہیں ملتا تھا ۔آ ج بھی اسلا م آ با د میں سفا ر تی حلقو ں کی سر گر میا ں Dinner وغیر ہ کا دو رانیہ 7 سے 9 بجے تک ہو تا ہے اور وہ وقت کی پا بند ی کا خا ص خیا ل رکھتے ہیں۔
سا ر ی دنیا کے ڈاکٹر ز اور ما ہر ینِ صحت اس با ت پر متفق ہیں کہ صبح جلد ی بید ار ہو نا اور رات کو جلد سونا اچھی ذ ہنی اور جسما نی صحت کا ضا من ہے ۔ قر آ ن و سنت کی تعلیما ت کے مطا بق بھی عشا ء کے بعد جلد سو جا نا بہتر ین عمل جبکہ اپنی مصر و فیا ت جا ر ی رکھنا نا منا سب ہے تو مستحسن یہی ہے کہ مغر ب کے بعد کھا نے اور عشا ء کے بعد سو نے کو اپنا معمو ل بنا لیا جا ئے۔
ایک تا جر کی حیثیت سے میں ذا تی طو ر پر یہ محسو س کر تا ہو ں کہ اوقا ت کے اس تقسیم کا ر کے نتیجے میںہم اپنے والدین اور بیو ی بچو ں کے سا تھ معیا ری وقت نہیں گزار پا تے جسکے ہما رے بچو ں کی تعلیم و تر بیت پر منفی اثر ات مر تب ہو تے ہیں اور ہما رے قر یب تر ین رشتے رفتہ رفتہ ہم سے دو ر ہو تے جا تے ہیں۔ عمو ما ً جب ہم صبح اٹھتے ہیں تو ہما رے بچے سکو ل جا چکے ہو تے ہیں اور رات گئے جب ہم لو ٹتے ہیں تو بچے سو چکے ہو تے ہیں ۔ ہما ر ی یہ عد م تو جہی ہما رے خا ند انی نظا م کو گھن کی طر ح چا ٹ رہی ہے۔ آ ج جب میں یہ مضمو ن لکھ رہا تھا تو ایک دلچسپ با ت میر ی نظر و ں سے گز ر ی کہ ڈینیل پنک مشہو ر امر یکی مصنف نے اپنی کتا ب When ، جسے 2018 میں بیسٹ سیلر کا ایو ارڈ بھی مل چکا ہے، میں اُ س نے تحقیق سے یہ با ت ثا بت کی ہے کہ کا م کر نے کا بہتر ین وقت صیح کا ہو تا
ہے اور انسا نی ذہنی صلا حیت نیند سے بید ار ہو نے کے بعد ابتد ائی وقت میں اپنے عر و ج پر ہو تی ہے تما م تر تخلیقی کا م اُ سی وقت احسن اند از میںسر انجام دیے جا سکتے ہیں۔
با ت اگر ریسر چ کی،کی جا ئے تو ایک امر یکی ریسر چ ادارے نے حا ل ہی میں اپنی ایک ریسر چ سے یہی با ت ثا بت کی ہے ۔ اس ادارے نے 24 لا کھ لو گو ں کے 50 کر و ڑٹو یٹ پڑ ھے ،ہر شخص کا مو ڈ اس کی جسما نی گھڑی یعنیBody Clock کے تا بع ہو تا ہے جبکہ جسما نی گھڑی میں صبح کے اوقات کی اہمیت سب سے زیاد ہ ہے۔ جو شخص جسمانی گھڑی کوسمجھ جا تا ہے اس کے لئے کا میا بی کا حصو ل آ سا ن ہو جا تا ہے ، جب ہما را بز نس مین صبح کا وقت سو کر گز ارے گا تو تخلیقی کام کیسے کرے گا۔۔۔؟ وہ اپنے بز نس کو تر قی کیسے دے سکے گا ؟
میر ے خیا ل میں اگر کا رو با ر بند کر نے کے لئے صبح ٨سے رات ٨ بجے کی حا لیہ پا بند ی مستقل بنیا دو ں پر نا فذ کر دی جا ئے تو ہما ر ی کی گئی کو تا ہیو ں کا ازالہ بھی ہو سکتا ہے اور ہما ر ی زند گی ،صحت اور تعلقا ت بہترہو سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے اہم کر دار تا جر بر ادری کا ہو سکتا ہے ، ہمیں اس جا نب سنجید گی سے تو جہ دینا ہو گی ، ہما رے تا جر دوست جہا ں بھی ہیں ، اس مقصد میں ہما ر ا سا تھ دیں ۔میں خصوصا ً بز نس کمیو نٹی کے رہنما ئو ں اور عہد ید ارو ں سے اپیل کر تا ہو ں کہ وقت کی پا بند ی کا ایک مر بو ط نظا م وضع کر یں اور اس پر سختی سے کا ربند ہو جا ئیں ،کیو نکہ اسطر ح ہم سب کو کا رو با ر میں تر قی اور خیر و بر کت کے بے پنا ہ مو اقع میسر ہو ں گے ۔ اس حو الے سے ابتد ائی طو ر پر اسلا م آ با د اور راولپنڈ ی کے چیمبر ز کو دیگر تاجر تنظیمو ں کے سا تھ با ہمی مشا ورت سے کو ئی لا ئحہ عمل تر تیب دینا ہو گا جسے رو ل ما ڈل کے طو ر پر متعا رف کر وا یا جا سکتا ہے ۔ اور مجھے یقین ہے کہ ہما ر ے اس مقصد کو کا میا ب بنا نے کے لئے میڈ یا ، اسا تذ ہ اور علما ئے کر ام اور دیگر سما جی تنظیمیں ہما ے سا تھ بھر پو ر تعا و ن کر یں گی ۔ اس سلسلے میں تا جر بر ادری میں آ گا ہی مہم چلا ئی جا ئے، دنیا کے کا میا ب چیمبر ز کے تجر با ت سے استفا دہ کیا جا ئے تا کہ ہم اپنے ملک و قوم کی بہتر ی کیلئے اپنے حصے کا کر دار کا میا بی سے ادا کر سکیں ۔
جزاک اﷲ خیرٰ!
پاکستان کا نرالا نظام الا و قا ت ,محمد زاہد قریشی ،صدر اسلام آباد،بزنس فورم
القمر
