English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سعودی عرب میں فلسطینی اور اردنی شہریوں پر مقدمات ،ہیومن رائٹس واچ کا اظہار تشویش

القمر

لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہومن رائٹس واچ نے سعودی عرب میں قید فلسطینی اور اردنی شہریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر مقدموں اور استیصال کے الزامات پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق مارچ 2018ء میں سعودی حکام نے نامعلوم دہشت گرد تنظیم سے تعلق کے الزام میں ملک میں فلسطینی اور اردنی رہایشیوں کے گروہ کو ہدف بناتے ہوئے بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ قیدیوں کو 2 سال تک بغیر کسی الزام کے زیر حراست رکھنے کے بعد سعودی حکام نے گزشتہ ماہ ریاض کی خصوصی فوجداری عدالت میں بند دروازوں کے پیچھے بڑے پیمانے پر مقدمے چلانے شروع کیے۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق ان قیدیوں کے اہل خانہ نے چارج شیٹ کے کچھ حصے دیکھے جس میں دہشت گرد تنظیم سے تعلق یا حمایت کا الزام ہے، لیکن تنظیم کا نام شامل نہیں۔ اس ضمن میں ہیومن رائٹس واچ مشرق وسطیٰ کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل پیج کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے غیر منصفانہ ٹرائل ریکارڈ سے اس بات کا خدشہ ہے کہ اردنی اور فلسطینی شہریوں کو سنگین الزامات اور سخت سزاؤں کا سامنا ہوگا، حالاں کہ کچھ نے سنگین استیصال کا الزام بھی عائد کیا ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایک ایسے وقت میں جب کورونا وائرس کی وبا قیدیوں کے لیے خطرناک ہے، سعودی عرب کو حراست کے متبادل پر غور کرنا چاہیے، بالخصوص ان کے لیے جو مقدمے سے قبل قید کیے گئے۔ ہیومن رائٹس واچ نے 7 قیدیوں میں سے 6 کے اہل خانہ سے بات کی، جن میں سے ہر ایک نے اپنے یا زیر حراست رشتہ داروں کے خلاف انتقامی کارروائی کے خوف سے نام نہ ظاہر کرنے کی درخواست کی۔ رپورٹ کے مطابق ان اہل خانہ کا کہنا تھا کہ سعودی سیکورٹی سروسز نے 5 قیدیوں کو گھروں پر چھاپے مار کر گرفتار کیا، جب کہ دیگر 2 افراد کو بیرونِ ملک جاتے ہوئے ائرپورٹس سے گرفتار کیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے