English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مودی سرکار مسلم نسل کشی کی تیاری کررہی ہے،بھارتی صحافی

القمر

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) معروف بھارتی صحافی، مصنفہ اور سیاسی کارکن ارون دھتی رائے نے انکشاف کیا ہے کہ مودی سرکار ملک کی ہندو اکثریت اور مسلمان قلیت کے مابین کشیدگی کو ہوا دے رہی ہے، اور بھارت میں مسلمانوں کے لیے صورت حال نسل کشی کی طرف بڑھ رہی ہے ۔ ارون دھتی رائے نے جرمن نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں خبردار کیا کہ اس وقت پوری دنیا میں کورونا وائرس کی وبا کے تناظر میں بھارت میں اس وبائی مرض کی آڑ میں جو صورت حال پیدا ہو رہی ہے، اس پر پوری دنیا کو نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک ارب 30 کروڑ کی آبادی والے ملک بھارت میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ملکی سطح پر لاک ڈاؤن کے چھ میں سے تین ہفتے پورے ہو چکے ہیں۔ نئی دہلی میں مودی حکومت کا کہنا ہے کہ اس لاک ڈاؤن کا مقصد کووڈ 19 کا سبب بننے والے وائرس کے پھیلاؤ کا سلسلہ منقطع کرنا ہے۔ تاہم بھارت میں کورونا وائرس کے خلاف جدوجہد کا ایک مذہبی پہلو بھی ہے۔ مثال کے طور پر شہر میرٹھ میں مسلم اقلیتی شہریوں کو اس لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ چند مقامی شخصیات کے بقول وہ مبینہ طور پر کورونا جہاد کر رہے تھے۔ اسی تناظر میں ارون دھتی رائے کا کہنا ہے کہ بھارت میں کووِڈ 19 کا مرض اب تک کسی حقیقی بحران کی وجہ نہیں بنا۔ اصل بحران تو نفرت اور بھوک کا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ایک بحران ہے، جس سے قبل دہلی میں قتل عام بھی ہوا تھا۔ قتل عام جو اس بات کا نتیجہ تھا کہ لوگ شہریت سے متعلق ایک مسلم مخالف قانون کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ اس وقت بھی جب ہم یہ گفتگو ر ہے ہیں، کورونا وائرس کی وبا کی آڑ میں بھارتی حکومت نوجوان طلبہ کو گرفتار کرنے میں لگی ہے۔ وکلا، سینئر مدیران، سیاسی اور سماجی کارکنوں اور دانشوروں کے خلاف مقدمات قائم کیے جا چکے ہیں، اور ان میں سے کچھ کو تو حال ہی میں جیلوں میں بند بھی کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی کہا کہم آر ایس ایس نامی وہ پوری تنظیم جس سے وزیر اعظم مودی کا بھی تعلق ہے اور جو حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے پیچھے فعال اصل طاقت ہے، وہ تو عرصے سے یہ کہتی رہی ہے کہ بھارت کو ایک ہندو ریاست ہونا چاہیے۔ اس کے نظریہ ساز بھارتی مسلمانوں کو ماضی کے جرمنی میں یہود سے تشبیہ دے چکے ہیں۔ جس طرح بھارت میں کووِڈ 19 نامی بیماری کو استعمال کیا جا رہا ہے، وہ طریقہ کافی حد تک ٹائفائیڈ کے اس مرض جیسا ہے، جسے استعمال کرتے ہوئے نازیوں نے یہود کو ان کے مخصوص رہایشی علاقوں میں ہی رہنے پر مجبور کیا تھا۔ میں بھارت میں عام لوگوں اور دنیا بھر کے انسانوں کو یہی کہوں گی کہ وہ اس صورتحال کو بہت ہلکے پھلکے انداز میں نہ لیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے