کوٹری (نمائندہ جسارت) انتظامی غفلت کے سبب کوٹری میں آلودہ پانی کی فراہمی سے پیٹ اور جلد کے امراض پھیلنے لگے، دست اور الٹی سے متاثرہ بچہ جان کی بازی ہار گیا، سول اسپتال کوٹری میں طبی سہولیات کا فقدان، شہری وسماجی حلقوں کا نوٹس لینے کا مطالبہ۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے آبائی ضلع جامشورو کے ہیڈ کوارٹر شہر کوٹری میں مبینہ انتظامی غفلت ولاپروائی کے سبب آلودہ پانی کی فراہمی کے سبب پیٹ اور جلد کے امراض پھیلنا شروع ہوگیا ہے-گزشتہ دنوں کوٹری کے علاقہ دریاآباد کالونی کے رہائشی محمد عمران کے چار سالہ بچہ عبدالوہاب کو اچانک دست اور الٹی ہونے پر سول اسپتال کوٹری لے جایا گیا جہاں فوری طبی امداد دیکر واپس کردیا گیا مگر دوبارہ طبیعت خراب ہونے پر اسے سول اسپتال کوٹری لے جایا گیا جہاں دوران علاج وہ زندگی کی بازی ہار گیا جس کی تدفین مقامی قبرستان میں کردی گئی ہے، متاثرہ خاندان لاک ڈائون کی وجہ سے پہلے ہی پریشانی کی زندگی گزار رہا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کوٹری میں کروڑوں روپے کی لاگت سے تیار کردہ فلٹر پلانٹ گزشتہ دس سال سے غیر فعال بنا ہوا ہے جس پر سپریم کورٹ کے قائم کردہ واٹر کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فوری فلٹرپلانٹ کو فعال کرنے کا حکم دیا تھا مگر انکے عہدے سے فارغ ہوتے ہی محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ نے بھی مجرمانہ خاموشی اختیار کرلی ہے اور فلٹر پلانٹ کو فعال کرنے کے لیے مرمتی کام سست روی کا شکار ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ پبلک ہیلتھ جامشورو نے ٹھیکیدار کو مرمتی کام کی ادائیگی بھی کردی گئی ہے مگر مرمتی کام ہنوز مکمل نہیں ہوسکا ہے۔ دوسری جانب محکمہ پبلک ہیلتھ جامشورو کے ایگزیکٹو انجینئر سجن مل سے رابطہ کیا گیا تو ان کا نمبر بند تھا وہ آفس میں بھی موجود نہیں تھے۔ بتایا جاتا ہے مذکورہ انجینئر نے تعیناتی کے بعد کورونا وائرس کے خوف سے آفس آنا بند کردیا ہے اور عوامی شکایات کے لیے کوئی مناسب بندوبست بھی نہیں کیا گیا ہے۔ شہری وسماجی حلقوں نے وزیر اعلیٰ سندھ سے فوری نوٹس لیتے ہوئے فلٹر پلانٹ فعال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
کوٹری ،آلودہ پانی کی فراہمی سے پیٹ اور جلدی امراض پھیلنے لگے
القمر
