English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارت،درجنوں صحافی کورونا سے متاثر ،حکومت نے تصدیق کردی

القمر

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی شہر ممبئی میں 53 صحافیوں کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن کے مطابق 167 صحافیوں کے نمونے جانچ کے لیے بھیجے گئے تھے جن میں سے 53 کے نمونے مثبت پائے گئے ہیں اور اس تعداد میں مزید اضافہ ہونے کاخدشہ ہے۔ ان صحافیوں میں نامہ نگار، کیمرہ مین اور فوٹو جرنلسٹ بھی شامل ہیں۔ اطلاعات و نشریات کے وفاقی وزیر پرکاش جاوڈیکر نے ٹوئٹر پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے لکھایہ انتہائی افسوس ناک ہے کہ ممبئی میں الیکٹرانک میڈیا کے 50 سے زائد افراد کورونا وائرس سے متاثر پائے گئے ہیں۔ ہر صحافی کو مکمل احتیاط برتنی چاہیے اور ان کی وزارت نے جو رہنما خطوط جاری کیے ہیں ان پر عمل کرنا چاہیے ۔ ممبئی کے ایک صحافی اشوک باگڑیا کا کہنا ہے کہ ایک ٹی وی چینل کے رپورٹروں کی پوری ٹیم ہی کورونا وائرس سے متاثر ہوگئی ہے۔ دریں اثنا لاک ڈاون کے معاملے پر ریاست مغربی بنگال اور مرکزی حکومت کے درمیان سیاسی تکرار شروع ہوگئی ہے۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ریاست میں لاک ڈاؤن کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے مرکز کی جانب سے وزارتی ٹیم بھیجنے پر سخت اعتراض کیا ہے ۔ انہوں نے اسے یک طرفہ کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے کسی اقدام کی قطعی ضرورت نہیں ہے ، کیونکہ ریاست اور مرکز دونوں حکومتیں کورونا وائرس کے بحران پر قابو پانے کے لیے دن رات انتھک محنت کررہی ہیں۔ دوسری جانب بھارت میں کورونا وائرس پر قابو پانے کے اقدامات کے تحت لاک ڈاؤن سے کپڑابنانے کی صنعت بری طرح متاثر ہو رہی ہے جس سے لاکھوں مزدر بے روزگار ہو گئے ہیں۔ ایک دہائی قبل حکومتی سروے کے مطابق بھارت میں پاور لومز کی تعداد 43 لاکھ تھی، جب کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ بتائی جاتی ہے۔ اس پیشے سے وابستہ افراد لاک ڈاون کے باعث بے روزگار ہوگئے ہیں اور ان کے سامنے روزی روٹی کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے۔ یوپی میں بنکر یونین کے سابق سکرٹری جاویداختربھارتی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ لاک ڈاون کی وجہ سے آمدن بالکل بند ہے، لاک ڈاون نے اس شعبے کی کمر توڑ دی ہے اور یہ کہنا مشکل ہے کہ پاور لوم کا چکہ رکنے سے مزدوروں کی سانسیں رکنے کا سلسلہ کب شروع ہوجائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے