English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سعودی عرب سزائے موت دینے والے ممالک میں سرفہرست

القمر

لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں سزائے موت میں کمی آنے کے باوجود سعودی عرب نے گزشتہ برس 184 افراد کو سزائے موت دی۔ ایمنسٹی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی طرف سے سزائے موت میں اضافہ ایک تشویش ناک صورتحال ہے۔ 2019ء میں 178 مردوں اور 6 خواتین کو سزائے موت دی۔ سزائے موت پانے والوں میں نصف تعداد غیر ملکیوں کی تھی۔ 2018ء میں سزائے موت کی یہ تعداد 149تھی۔ ان میں سے اکثرکو قتل اور منشیات سے متعلق جرائم میں سزائیں سنائی گئی تھیں۔ گزشتہ سال اپریل میں 37افراد کو دہشت گردی کے جرم میں ایک ساتھ سزائے موت دی گئی۔ دوسری جانب گزشتہ برس عراق میں بھی ہلاکتوں کی تعداد میں دگنا اضافہ ہوا اور 100 افراد کو سزائے موت دی گئی۔ ایران 251 سزائے موت کے ساتھ چین کے بعد دوسرے نمبر پر سب زیادہ سزائے موت دینے والا ملک بن چکا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 4برس سے عالمی سطح پر سزائے موت میں کمی کا رحجان دیکھنے میں آیا ہے۔ اب یہ سزائیں کم ہو کر 657تک آ گئی ہیں جو 2018ء کے مقابلے میں 5فیصد کم ہیں۔ دنیا بھر میں 106ممالک نے تمام جرائم کے لیے سزائے موت کو قانون سے ہی ختم کر دیا ہے، جب کہ 142ممالک نے اپنے قانون سے سزائے موت کو یا تو ختم کر دیا یا اس پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے۔ ایمنسٹی نے ان اعدادوشمار میں چین کو شامل نہیں کیا، جہاں خیال کیا جاتا ہے کہ پھانسی دیے جانے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہو سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے