English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

لاک ڈاؤن: لاطینی امریکا میں خواتین پر گھریلو تشدد میں اضافہ

القمر

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) لاطینی امریکا کے مختلف ممالک میں لاک ڈاؤن کے دوران خواتین پر تشدد کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا۔ خبررساںاداروں کے مطابق گھریلو تشدد کی شکایات درج کرانے کے لیے قائم ہیلپ لائنز پر فون کالوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ ارجنٹائن کی حکومت نے کورونا وائرس کیک پھیلاؤ کو روکنے کے لیے 20 مارچ کو ملک گیر لاک ڈاؤن کیا تھا۔ ابتدائی 20روز کے دوران 18خواتین اپنے شوہروں کے ہاتھوں قتل ہوئیں۔ ملک میں تشدد کے خلاف کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم مومالاکی عہدے دار وکٹوریااگوائر کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن نے ہزاروں خواتین کو جہنم میں دھکیل دیا ہے۔ وہ ایسے افراد کے ساتھ رہنے پر مجبور ہیں جن سے وہ کورونا وائرس سے بھی زیادہ خوف کھاتی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے اکنامک کمیشن برائے لاطینی امریکا کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس 3ہزار800خواتین کو قتل کیا گیا۔ یہ تعداد 2018 ء کے مقابلے میں 8فیصد زیادہ تھی۔ خبررساں اداروںکے مطابق ارجنٹائن جیسی صورت حال میکسیکو، برازیل، چلی اور دیگر ممالک میں بھی ہے اور وہاں پولیس روزانہ موصول ہونے والی ایمرجنسی کالز سے تنگ ہے۔ وہاں انتظامیہ کی طرف سے گھریلو تشدد کے خلاف اقدامات تو کیے جا رہے ہیں، لیکن ان اقدامات کے مثبت نتائج سامنے نہیں آرہے۔ میکسیکو میں خواتین کے قومی ادارے کی سربراہ نادین گازمان کے مطابق24مارچ سے ملک میں لاک ڈاؤن شروع ہوا، جس کے بعد سے خواتین کی طرف سے آنے والی ایمرجنسی کالز میں اضافہ ہو گیا ہے۔ لاک ڈاؤن کے بعد سے ملک بھر میں 200خواتین قتل ہوئیں۔ چلی میں کورونا وائرس کے باعث مخصوص علاقوں ہی میں لاک ڈاؤن ہے اور رات کے اوقات میں کرفیو نافذ کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود دارالحکومت سانتیاگو میں گھریلو تشدد کی شکایات میں 500فیصد اضافہ ہوا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے