برسلز (انٹرنیشنل ڈیسک) یورپی کونسل کے رکن ممالک نے بھی کورونا وائرس کے سبب سماجی و معاشی مشکلات کے حل پر غور کرنے کے لیے وڈیو کانفرنس کا انعقاد کیا۔ 27 رکنی یورپی کونسل کے ارکان نے اس بات سے اتفاق کیا کہ موجودہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے ایک بڑے فنڈ کی ضرورت ہے، تاہم اس بات پر اختلافات ہیں کہ فنڈ کتنا ہو اور اس کا انتظام کیسے کیا جائے گا۔ یورپی کونسل کے سربراہ چارلس مائیکل نے بتایا کہ اس کانفرنس میں تمام ارکان نے یورپی یونین کمیشن سے ضروریات کا جائزہ لے کر فوری طور پر ایک ایسا منصوبہ تیار کرنے کو کہا ہے جو بحالی کے لیے بڑے فنڈ پر مشتمل ہو، اس سلسلے میں ایک ایسے ’’جوائنٹ روڈمیپ ریکوری‘‘ نامی منصوبے پر دستخط کیے ہیں جس میں غیر معمولی سرمایہ کاری پر زور دیا گیا ہے۔ تمام ارکان نے اس سے قبل کے ایک قلیل مدتی 540 ارب یورو پر مشتمل پیکیج کی بھی توثیق کی تھی، جس پر جون کے اوائل سے عمل شروع ہوجائے گا۔ وڈیو کانفرنس کے بعد جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے کہا کہ کورونا وائرس کے بحران کے کم ہو جانے کے بعد جرمنی کو یورپی یونین کے بجٹ کے لیے زیادہ رقم مہیا کرنے کی ضرورت پڑے گی۔ اٹلی نے ’’کورونا بانڈ‘‘کی تجویز پیش کی ہے جس کے تحت بعض ضروری ضمانتوں کی بنیاد پر غریبوں کو امیروں سے کم سود کی شرح پر قرض فراہم کرنے کی بات کہی گئی ہے، تاہم لیکن جرمنی اس تجویز کے خلاف ہے۔واضح رہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا سے امریکا اور یورپ کی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے، اور وہاں بحالی کے لیے حکمت عملی تیار کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ جمعرات کے روز امریکی کانگریس نے 484 ارب ڈالر کا ایک پیکیج بھی منظور کیا جو ایسے چھوٹے کاروبار کرنے والوں کو قرض مہیا کرنے کے لیے ہے جن کا کاروبار کورونا وائرس کی وبا ی وجہ سے بند ہوچکا ہے ، تاکہ وہ اپنے ملازمین کو تنخواہیں دے سکیں۔ اس کے علاوہ اسپتالوں کی مدد کے لیے بھی کچھ رقم مختص کی گئی ہے۔
یورپی کونسل کی ویڈیو کانفرنس غیر معمولی سرمایہ کاری پر زور
القمر
