واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث امریکا میں بے روزگاری کی شرح تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں امریکی شہری شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہونے لگے ہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی محکمہ محنت کی جانب سے جاری اعداد شمار میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 5 ہفتوں کے دوران بے روز گار ہونے والے 2 کروڑ 65 لاکھ امریکی شہریوں نے بے روزگاری الاؤنس کے لیے درخواستیں جمع کرائی ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق کورونا وائرس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال میں ہر 6 میں سے ایک امریکی شہری بے روزگار ہو چکا ہے اور اس تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ کورونا وائرس کے باعث صرف امریکا میں پیدا ہونے والی بے روزگاری کی شرح کو1930ء میں ہونے والی کساد بازاری سے بھی زیادہ سنگین قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی ایوان نمایندگان نے بے روز گار ہونے والے شہریوں اور اسپتالوں کے لیے 500 ارب روپے کے ریلیف پیکیج کی منظوری دی ہے۔ گزشتہ 5 ہفتوں میں بے روزگاری کی شرح سے متعلق حکام نے بتایا کہ ہنگامی حالت کے نفاذ کے پہلے ہفتے میں 33 لاکھ، دوسرے ہفتے میں 69 لاکھ، تیسرے ہفتے میں 66 لاکھ اور چوتھے ہفتے میں 52 لاکھ افراد بے روزگار ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی کئی برس کی معاشی ترقی صفر ہو گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بے روزگار ہونے والے افراد کی تعداد جاری اعداد سمار سے کہیں زیادہ ہے کیوں کہ محکمہ محنت نے وہ لوگ شامل نہیں کیے جو مختلف وجوہ سے بے روزگاری الاؤنس کے اہل نہیں ہیں۔ امریکا میں لاکھوں تارکین وطن ایسے ہیں جن کے پاس قانونی دستاویزات نہیں۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت بے روزگاری کی شرح 15 سے 20 فیصد کے درمیان ہے اور کاروبار بند ہونے کی وجہ سے آیندہ مہینوں میں مزید لاکھوں لوگ روزگار سے محروم ہو سکتے ہیں۔ کرونا وائرس کی وجہ سے عائد کی گئی پابندیوں کے نتیجے میں جو کاروبار سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں ان میں فضائی کمپنیاں، ہوٹل، سفری اور سیاحت کی صنعت شامل ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ کمپنیاں اپنے ملازمین کو فارغ کررہی ہیں۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- بڑھتی مہنگائی، بڑھتا قرض، گھٹتی کمائی، مودی حکومت میں متوسط طبقے کے حصے میں آئی صرف تباہی: جے رام رمیش
- ٹرینوں میں رات 11 بجے سے صبح 5 بجے تک نہیں کیا جا سکے گا موبائل چارج، ریلوے نے جاری کی ہدایت
- جنسی ہراسانی معاملہ: عدالت نے برج بھوشن شرن سنگھ کو جواب داخل کرنے کا آخری موقع دیا
- ’حکومت ہی فیصلہ کرے گی‘، مردم شماری میں او بی سی ذاتوں کی الگ فہرست کے مطالبے پر سپریم کورٹ کا تبصرہ
- ہردیپ پوری پھر جائیں گے راجیہ سبھا، بی جے پی نے مدھیہ پردیش سے بنایا امیدوار