واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کے جسم میں جراثیم کش دوا داخل کرنے کی تجویز پیش کردی۔ خبر رساں اداروں کے مطابق ٹرمپ نے اپنی بریفنگ کے دوران کورونا وائرس کے خاتمے کے لیے سب سے پہلے جسم میں روشنی داخل کرنے کی تجویز دی، بعد ازاں انہیں جراثیم کش ادویات کا انجکشن لگانے کا خیال پیش کیا۔ ٹرمپ کی یہ بات عالمی میڈیا پر مذاق بن کررہ گئی ہے،جب کہ ڈاکٹروں اور وبائی امراض کے ماہرین نے اس پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق وائرس مریض کے خلیوں کے اندر ہوتا ہے اور اسے مارنے کے لیے کسی جراثیم کش کا استعمال کیا جائے گا تو کورونا وائرس کے ساتھ مریض بھی مرجائے گا۔ قبل ازیں ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا وائرس کے علاج کے لیے ملیریا کی دوا جب کہ وائرس سے بچنے کے لیے ماسک کی جگہ اسکارف پہننے کی بھی تجویز دی تھی۔واضح رہے کہ امریکا میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 8لاکھ 86ہزار 709ہوگئی ہے۔ ملک بھرمیں 50ہزار 243افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جب کہ زیر علاج 7لاکھ 50ہزار 544افراد میں سے 14ہزار 997کی حالت بدستور تشویش ناک ہے۔ نیویارک امریکا میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ریاست ہے جہاں اموات کی شرح دنیا کے اکثر ممالک سے بھی زیادہ ہے۔ واضح رہے کہ امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ دھوپ اور روشنی کے ذریعے کورونا وائرس کو ختم کرنا ممکن ہے۔ واشنگٹن کی حکومت اس حوا لے سے سنجیدگی سے کام کررہی ہے۔
ٹرمپ کی تجویز پر عمل سے کورونا اور مریض دونوں کی موت ہوگی‘ ماہرین
القمر
