دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شامی شہر راس العین کے گاؤں الاہراس اور عامریہ میں بم دھماکوں کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے۔ شامی مبصر برائے انسانی حقوق کی رپورٹ کے مطابق دونوں دیہات میں باردوی سرنگ پھٹنے سے دھماکے ہوئے،جس کے نتیجے میں بشار االاسد کے خلاف مزاحمت کرنے والے ترکی کے حمایت یافتہ جنگجوؤں کو نقصان پہنچا۔ خبررساں اداروں کے مطابق متاثرہ علاقوں میں اس سے قبل بھی بارودی سرنگوں کے دھماکے ہوچکے ہیں۔ چند روز قبل احرار شرقیہ اور ترک حمایت یافتہ معتصم بریگیڈ کے مابین راس العین کے سری کنیامحلے میں جھڑپیں ہوئی تھیں،جن میں مشین گنوں اورآربی جی گولوں کا استعمال کیا گیا۔ اس کے علاوہ محطہ اور عبرہ کالونیوں، شاہراہ کنائس، سرحدی گزرگاہ اور خرابات کالونی میں خوںریز جھڑپوں کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے ہیں۔ مقامی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ان جھڑپوں میں عشرین ڈویژن اور قعقاع بریگیڈنے حصہ لیا تھا۔ شامی مبصر نے اپنے رپورٹ میں معتصم ڈویژن کے 2ارکان کی ہلاکت اور دیگر 2افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ترک نواز جنگجوئوں کے درمیان یہ جھڑپیں مقامی سطح پر جمع کی گئی رقوم کی تقسیم کے معاملے پرہوئیں۔واضح رہے کہ ترکی کی حکومت شام میں بشار الاسد کے آمرانہ اقتدار کی مخالف ہے اور وہ اسدی فوج کے خلاف مقامی مزاحمت کاروں کی حمایت کرتی ہے۔
شام: مختلف علاقوں میں بارودی سرنگوں کے دھماکے‘ کئی ہلاک
القمر
